پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں بیرونِ ملک قتل کی کارروائیاں کرنے والے ممالک پر تنقید، انسدادِ دہشت گردی کو جواز بنانے کی مذمت کا مطالبہ

پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کے نام پر بیرونِ ملک افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی مہمات چلانے والے ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کی مذمت کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں انسانی حقوق پر اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ …

اقوام متحدہ۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کے نام پر بیرونِ ملک افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی مہمات چلانے والے ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کی مذمت کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں انسانی حقوق پر اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ بین سائول کے ساتھ ایک انٹرایکٹو مکالمے میں پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلرمحمد جواد اجمل نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی تعریف بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کے عوام کے جائز حق کے درمیان فرق کرنے اور حقِ خود ارادیت کے استعمال کو تسلیم کرنے پر زور دیا۔انہوں نےفلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں غیر ملکی قبضے کی صورتِحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قابض قوتیں مقامی آبادیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں میں جبری نقل مکانی، آبادکاروں کے پُرتشدد اقدامات، آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں، من مانیاں گرفتاریاں، تشدد اور غیر انسانی و توہین آمیز سلوک شامل ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اسلحے اور ہتھیاروں نیز ڈرونز کی غیر قانونی تجارت میں ملوث منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسے دہشت گرد گروہوں کی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کی ایک واضح مثال ہے جو پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان صرف گزشتہ3 سال میں 4,700 سے زائد جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے۔پاکستانی مندوب نے انسدادِ دہشت گردی کے ’’جھوٹے بہانوں‘‘ کے تحت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پامال کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں بھارت نے پاکستانی علاقے میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 54 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے جن میں 15 بچے اور 13 خواتین بھی شامل تھیں جبکہ بعض شہید ہونے والے بچوں میں شیرخوار بھی شامل تھے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایسی بدنیتی پر مبنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کے اپنے عزم اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ہمیں ایسی مہم جوئی کی مذمت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد افراد اور تنظیموں کو پابندیوں کی فہرستوں میں شامل کرتے وقت مذہب سمیت کسی بھی ممنوعہ بنیاد پر براہِ راست یا بالواسطہ امتیاز نہیں برتنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان فہرستوں میں ایسے پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے اور اسلاموفوبیا پر مبنی گروہ بھی شامل ہونے چاہییں جو دنیا بھر میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پابندیوں کے نظام کو زیادہ منصفانہ اور شفاف بنایا جانا چاہیے۔

مزید خبریں