پاکستان کی عید میلادالنبی کے موقع پرمقبوضہ کشمیر میں اجتماعات پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت

اسلام آباد ۔ 10 نومبر (اے پی پی) پاکستان نے عید میلادالنبی کے موقع پر بھارتی حکام کی طرف سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میںسری نگر میں واقع مزارحضرت بل و دیگر مزارات کو جانے والی تمام سڑکوں اور راستوں اور مساجدکو قابض …

اسلام آباد ۔ 10 نومبر (اے پی پی) پاکستان نے عید میلادالنبی کے موقع پر بھارتی حکام کی طرف سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میںسری نگر میں واقع مزارحضرت بل و دیگر مزارات کو جانے والی تمام سڑکوں اور راستوں اور مساجدکو قابض افواج نے سیل کر رکھا تھا تاکہ اس پر مسرت موقع پر کسی قسم کے جلوسوں کو روکا جا سکے جسے کشمیری مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔دفتر خارجہ کی طرف سے جاری مذمتی بیان میں کہا گیا کہ حضور نبی اکرم کی یوم ولادت کے موقع پر مذہبی تقریبات اور دیگر میلاد کے جلوسوں پر پابندی عائد کرنا بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔یہ ان کی بنیادی مذہبی آزادی کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ترجمان نے بین الاقوامی برادری ،اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ کشمیری عوام کے مذہبی حقوق اور آزادیوں کو غاصبانہ طریقے سے صلب کرنے کا نوٹس لیا جائے جو کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 ہفتوں سے زائد عرصہ سے 80 لاکھ سے زائد کشمیری 9 لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج کے غیر انسانی محاصرے اور لاک ڈاﺅن میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کو بحال کرے، سول سوسائٹی کے اراکین سمیت تمام قیدیوں بالخصوص مغوی نوجوانوں کوفوری رہا کرے اور دفعہ144 ،پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کو ختم کرے اور آزاد میڈیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کو علاقے کے دورے کی اجازت دے تاکہ وہ آزادانہ طور پر کشمیری عوام کی صورتحال کا جائزہ لے سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو ان کے استصواب رائے کے حق کی امنگوں کو نہیں دبا سکتی۔

مزید خبریں