پاکستان کے 81 کھرب روپے کے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں میں چین سرفہرست

پاکستان کے 80 کھرب 99 ارب روپے مالیت کے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں میں چین کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ چین کے تعاون سے جاری چھ منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت 25 کھرب 39 ارب روپے ہے، جو ملک میں زیر انتظام 98 منصوبوں کی مجموعی مالیت کا تقریباً 31.4 فیصد بنتی ہے۔

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کے 80 کھرب 99 ارب روپے مالیت کے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں میں چین کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ چین کے تعاون سے جاری چھ منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت 25 کھرب 39 ارب روپے ہے، جو ملک میں زیر انتظام 98 منصوبوں کی مجموعی مالیت کا تقریباً 31.4 فیصد بنتی ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب مالی سال 27۔2026کے لیے عطیہ دہندگان اور مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں کے لحاظ سے مرتب کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے 98 ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کی ہے، جن کی مجموعی تخمینی لاگت 80 کھرب 99 ارب روپے ہے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 98 میں سے صرف چھ منصوبوں کی معاونت کے باوجود مجموعی منصوبہ جاتی لاگت کے لحاظ سے چین تمام انفرادی مالی معاونت فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں میں سرفہرست ہے۔ان منصوبوں پر 30 جون 2026 تک تخمینی اخراجات 57 ارب 22 کروڑ 90 لاکھ روپے رہے، جبکہ باقی ماندہ منصوبہ جاتی لاگت 24 کھرب 82 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جو ظاہر کرتی ہے کہ ان منصوبوں پر ابھی بڑے پیمانے پر اخراجات ہونا باقی ہیں۔رواں مالی سال کے لیے حکومت نے چین کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 31 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جن میں 25 ارب 82 کروڑ 90 لاکھ روپے غیر ملکی مالی معاونت کے مقابلے میں روپے کی صورت میں مختص رقم اور 5 ارب 87 کروڑ 20 لاکھ روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔

مجموعی منصوبہ جاتی لاگت کے لحاظ سے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) دوسرے نمبر پر ہے، جس کے تعاون سے نو منصوبوں کی تخمینی لاگت 22 کھرب 79 ارب روپے ہے۔ یہ مجموعی ترقیاتی منصوبوں کی مالیت کا تقریباً 28.1 فیصد بنتی ہے۔ان منصوبوں پر 30 جون 2026 تک تخمینی اخراجات 695 ارب 40 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئے، جبکہ مالی سال27۔2026کے لیے 60 ارب 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) منصوبوں کی تعداد کے لحاظ سے تمام مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں میں سرفہرست ہے۔ بینک کے تعاون سے 31 منصوبے جاری ہیں، جن کی مجموعی تخمینی لاگت 11 کھرب 31 ارب روپے ہے۔ان منصوبوں پر تخمینی اخراجات 396 ارب 35 کروڑ 70 لاکھ روپے رہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے 65 ارب 89 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح اسلامی ترقیاتی بینک تین منصوبوں سے وابستہ ہے، جن کی مجموعی تخمینی لاگت 851 ارب 96 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے۔

جون 2026 تک ان منصوبوں پر 224 ارب 72 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے 40 ارب 31 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں کے لحاظ سے مرتب کردہ تفصیلات میں متعدد عطیہ دہندگان کے مشترکہ تعاون سے چلنے والے چار منصوبوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مجموعی لاگت 331 ارب 81 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔ان منصوبوں کے لیے مالی سال 27۔2026میں سب سے زیادہ سالانہ رقم، یعنی 80 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کی گئی ہے، جس میں 23 ارب 58 کروڑ 40 لاکھ روپے غیر ملکی مالی معاونت کے مقابلے میں روپے کی صورت میں مختص رقم اور 56 ارب 70 کروڑ روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔سعودی عرب 255 ارب 70 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کے تین منصوبوں کی معاونت کر رہا ہے، جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) 237 ارب 77 کروڑ روپے مالیت کے دو منصوبوں سے وابستہ ہے۔رواں مالی سال کے لیے ان کے منصوبوں کے لیے بالترتیب 3 ارب روپے اور 9 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

فرانس 112 ارب 15 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے سات منصوبوں سے وابستہ ہے، جن کے لیے مالی سال27۔2026میں 10 ارب 76 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جنوبی کوریا بھی سات منصوبوں کی معاونت کر رہا ہے، جن کی مجموعی تخمینی لاگت 98 ارب 17 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے، جبکہ ان کے لیے سالانہ 12 ارب 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔عالمی بینک اور انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ (آئی بی آر ڈی) کے تحت بالترتیب آٹھ اور چھ منصوبے الگ الگ درج کیے گئے ہیں۔

عالمی بینک کے زمرے میں شامل آٹھ منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت 90 ارب 64 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے، جبکہ آئی بی آر ڈی کے چھ منصوبوں کی مالیت 40 ارب 48 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے دوران عالمی بینک کے زمرے میں درج منصوبوں کے لیے 12 ارب 67 کروڑ 90 لاکھ روپے اور آئی بی آر ڈی کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 12 ارب 19 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔دیگر ترقیاتی شراکت داروں میں جاپان، امریکا، جرمنی، کویت فنڈ، اٹلی اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسانی آبادکاری (یو این ہیبی ٹیٹ) شامل ہیں، جو ترقیاتی منصوبوں کے مجموعی پروگرام میں مختلف حجم کے منصوبوں کی معاونت کر رہے ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے تمام 98 منصوبوں پر 30 جون 2026 تک مجموعی تخمینی اخراجات 19 کھرب 81 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ ریکارڈ کی گئی باقی ماندہ منصوبہ جاتی لاگت 52 کھرب 94 ارب روپے رہی۔مالی سال27۔2026کے لیے حکومت نے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 345 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے ہیں، جن میں 255 ارب روپے غیر ملکی مالی معاونت کے مقابلے میں روپے کی صورت میں مختص رقم اور 90 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔سب سے زیادہ 80 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ روپے متعدد عطیہ دہندگان کے مشترکہ تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 65 ارب 89 کروڑ روپے اور آئی ڈی اے کے منصوبوں کے لیے 60 ارب 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت میں چین کا حصہ سب سے زیادہ ہے، تاہم سالانہ بجٹ میں مختص رقوم مختلف کثیرالجہتی اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں کے منصوبوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔ترقیاتی منصوبوں کے مجموعی پروگرام میں چین کا نمایاں حصہ دونوں ممالک کے درمیان ترقیاتی تعاون کے وسیع حجم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم مالی معاونت فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کے لحاظ سے مرتب کردہ سرکاری تفصیلات میں چین کے تعاون سے چلنے والے چھ منصوبوں کے متعلقہ شعبوں کی منصوبہ وار تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

 

مزید خبریں