فیصل آباد۔ 19 فروری (اے پی پی):پاکستان کے 80ملین ہیکٹر رقبہ میں سے صرف 22ملین ہیکٹر زرعی رقبہ زیر کاشت ہے تاہم آبی وسائل کے بہتر استعمال سے زرعی کاشتہ رقبہ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف ملکی غزائی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں بلکہ اضافی زرعی اجناس کی برآمد سے قیمتی زر مبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔جامعہ زرعیہ فیصل آبادکے ماہرین زراعت نے بتا یا …
پاکستان کے80ملین ہیکٹرمیں سےصرف22ملین ہیکٹرزرعی رقبہ زیرکاشت ہے ،ماہرین جامعہ زرعیہ
فیصل آباد۔ 19 فروری (اے پی پی):پاکستان کے 80ملین ہیکٹر رقبہ میں سے صرف 22ملین ہیکٹر زرعی رقبہ زیر کاشت ہے تاہم آبی وسائل کے بہتر استعمال سے زرعی کاشتہ رقبہ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف ملکی غزائی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں بلکہ اضافی زرعی اجناس کی برآمد سے قیمتی زر مبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔جامعہ زرعیہ فیصل آبادکے ماہرین زراعت نے بتا یا کہ آبی وسائل کے درست استعمال اور اس کے ذخیرہ کے باعث زیر کاشت مجموعی رقبے کے برابر مزید زمین زرعی مقاصد کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتا یا کہ بڑے ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر میں تاخیر سے پاکستان اپنے مجموعی آبی وسائل کا صرف 14فیصد پانی محفوظ کر رہا ہے جبکہ باقی 86فیصد پانی کسی نہ کسی طریقے سے ضائع ہو جاتا ہے جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ معاشرے کے تمام طبقات اور سیاسی جماعتیں ہر قسم کے اختلافات سے بالا تر ہو کر نئے آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے حکومت کا ساتھ دیں تاکہ پاکستان میں سر سبز زرعی انقلاب لانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔









