امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ عالمی منظر نامے میں پاکستان کے ابھرتے نمایاں مقام کو امریکی مارکیٹ میں بطور موثر تجارتی شراکت دار کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے، پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اور کمرشل ہم آہنگی اور شراکت داری کی نئی راہیں ہموار کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک …
پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا مقصد تکنیکی و کمرشل ہم آہنگی اور شراکت داری کی نئی راہیں ہموار کرنا ہے،سفیر رضوان سعید شیخ

مزید خبریں
واشنگٹن۔22اکتوبر (اے پی پی):امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ عالمی منظر نامے میں پاکستان کے ابھرتے نمایاں مقام کو امریکی مارکیٹ میں بطور موثر تجارتی شراکت دار کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے، پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اور کمرشل ہم آہنگی اور شراکت داری کی نئی راہیں ہموار کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے سے جاری بیان کے مطابق سفارت خانے میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کی تیسرے ایڈیشن کا کامیاب انعقاد کیا گیا،سلیکون ویلی اور ڈیلاس کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں بھی پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں ، امریکی ماہرین ، سرمایہ کار اور شراکت داروں نے بھر پور شرکت کی۔پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی، قونصل خانوں اور پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ کے اشتراک سے کیا جارہا ہے جس کا اگلا ایونٹ 23 اکتوبر کو شکاگو میں منعقد ہوگا۔

ا س موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیر رضوان شیخ نے کہا کہ پاک امریکا دو طرفہ تعلقات کو انسداد دہشت گردی سے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کی جانب نئی سمت کی ضرورت ہے، سی ٹی کے بعد آئی ٹی میں ہمارا تعاون مثالی اور نتیجہ خیز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے عالمی منظر نامے میں پاکستان کے ابھرتے نمایاں مقام کو امریکی مارکیٹ میں بطور موثر تجارتی شراکت دار کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے دفاع اور سفارت کاری میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، اب ہمیں معیشت کومضبوط بنانے پر توجہ دینی ہے۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان نے مشر قِ وسطی ٰ کے موجود ہ بحران میں کلیدی سیاسی کردار ادا کیااور اب معاشی میدان میں بھی اپنی اہمیت و افادیت ثابت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا تیسرا سیکوئل سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں منعقد کیا گیا تا کہ پاکستانی سرکردہ آئی ٹی کمپنیاں امریکی منڈی میں نئے تجارتی روابط استوار کر سکیں،اس ضمن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت، مسابقتی کاروباری ماڈلز ، اور تعمیری تکنیکی ماحول اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مقام بنانے کےلئے پاکستانی آئی ٹی فرمز کا امریکی تکنیکی ماہرین اور انٹر پرائزز کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرنا ضروری ہے،جدید ٹیکنالوجی کا حصول ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم اور ملک کےلئے قیمتی زر مبادلہ کا ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی فنی تربیت اور جدت پر مبنی نظام تعلیم ملک کی معاشی ترقی کے لئے لازم وملزوم ہیں ، پاکستانی آئی ٹی کمپنیز اور گریجو یٹس اپنے متعلقہ شعبوں میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں ،تاہم اس ضمن میں مزید کا و شوں کی ضرورت ہے۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ،مصنوعی ذہانت ،سٹارٹ اپس، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور انٹر پرائز میں امریکی سرمایہ کاری اور شراکت داری ملکی ترقی و خوشحالی کےلئے اہم سنگ میل ثابت ہو ں گی ،یہی مہارتیں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی ۔
انہوں نے کہا کہ پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 سیریز کے ذریعے جدید مہارتوں سے لیس پاکستانی کمپنیوں کو امریکی کمپنیوں کے ساتھ باہمی اشتراک کےلئے تیار کرنا ہے،اس کانفر نس کا مقصد پاکستان کی ابھرتی انفار میشن ٹیکنالوجی فرموں کی برآمد ی صلاحیت کو امریکی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ٹھوس سانجھے داری میں تبدیل کرنا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی پارٹنر شپ کو مزید مضبوط کرنے کےلئے کلیدی کردار ادا کرے ۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی قومی تاریخ کے اہم دور سے گُزر رہا ہے اور اس دوران ہماری بین الاقوامی سطح پر قبولیت اورمقبولیت دونوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شُعبے میں اعلیٰ معیار اور کم لاگت کی میعاری ڈ یجیٹل مصنوعات اور حل پیشں کر کے عالمی سطح پر اپنا نام اور ساکھ بڑھا رہا ہے۔ اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں سرکردہ پاکستانی آئی ٹی فرموں کے چیدہ چیدہ خدوخال بیان کیے گئے۔پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 واشنگٹن ڈی سی سیکوئیل میں 16 معروف پاکستانی آئی ٹی فرموں نے بشمول اگنائیٹ ، اوپن ڈی سی ، سسٹمز لمیٹڈ، 10 پیرلز، ٹی -ایم-سی، ٹیکلوجکس اور دیگر نے شرکت کی۔
اس موقع پر سی ای اوز نے اپنی اپنی فرموں کے آپریشنز اور مجموعی آئی ٹی ٹیک ایکوسسٹم کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا۔گور نر سندھ سید مُحمد نہال ہاشمی نے پاکستان اور اور امریکا کے درمیان انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے شعبے میں تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور پاکستانی فرموں کو امریکی مارکیٹ میں رسائی دینے کےلئے سہولیات مہیا کرنے پر سفارت خانہ پاکستان ، پاکستان ایکسپورٹ پر و موشن بیورو اور اوپن گو گل کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ہماری ڈیجیٹل ترقی میں ایک اہم شراکت دار ہے اور سافٹ ویئر انجینئر نگ ، کلاوڈ کمیو ٹنگ ، سائبر سیکورٹی اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی مانگ پاکستانی کمپنیوں کو نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں ۔
ا س موقع پر سی ای او پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فیصل جیڈی نے پاکستانی ٹیک کمپنیوں کی عالمی مارکیٹ میں کار کردگی کا احاطہ کیا اور مستقبل میں مشترکہ سرمایہ کاری کے روشن امکانات کو اجا گر کیا۔ پاکستانی سفارت خانے میں متعین ٹریڈ منسٹر حنیف چنا نےجدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر آئی ٹی فرموں نے سفیر پاکستان اور سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی کا شکر یہ ادا کیا جس نے یہ اہم پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ با معنی نیٹ ورکنگ کی جا سکے۔







