پاک چین ڈیجیٹل شراکت داری، پاکستانی نوجوانوں کے لیے اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع

پاک چین ڈیجیٹل شراکت داری، پاکستانی نوجوانوں کے لیے اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی کے نئے مواقع

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور چین کے درمیان ڈیجیٹل تعاون، فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، جدید انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی تربیت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے کی کوششیں پاکستانی نوجوانوں کے لیے ترقی، ہنرمندی اور عالمی روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔سی پیک حکام کے مطابق چین کے جدید ٹیکنالوجی کے تجربات اور پاکستان کی نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

سی پیک کے تحت ڈیجیٹل رابطوں اور انفراسٹرکچر کی ترقی سے نہ صرف انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات بہتر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ تعلیم، کاروبار، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کے شعبوں میں بھی نئے مواقع سامنے آ سکتے ہیں۔اے آئی، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید آئی ٹی مہارتوں کی تربیت نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ چین کے تربیتی تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادے کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت بہتر بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ڈیجیٹل کوریڈور کا تصور پاکستان میں ٹیکنالوجی کے فروغ، علمی تبادلے اور ڈیجیٹل کاروبار کی ترقی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

جدید فائبر آپٹک نیٹ ورک، آئی سی ٹی تربیتی مراکز اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تعلیم کے باہمی امتزاج سے نوجوانوں کو مقامی اور عالمی سطح پر روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔پاکستان اور چین کے دیرینہ تزویراتی تعاون کو ڈیجیٹل معیشت تک وسعت دینا مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ایک اہم قدم ہے۔ اس سلسلے میں تربیتی پروگراموں، تعلیمی اداروں کے اشتراک، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عملی مہارتوں پر مبنی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہے۔پاک چین ڈیجیٹل شراکت داری نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے، پاکستان کی آئی ٹی برآمدات بڑھانے اور علم و ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی بنیاد مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔