سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سروس رولز 1990 کا اطلاق صرف ملازمت کے ابتدائی پروبیشنری مرحلے تک محدود ہے اور پروبیشن مکمل کرکے باقاعدہ ملازمت حاصل کرنے والے افسران کی سنیارٹی ان قواعد کی بنیاد پر تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
پروبیشن مکمل کرنے والے ریلوے افسران کی سنیارٹی تبدیل نہیں کی جا سکتی، سپریم کورٹ نے ٹریبیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سروس رولز 1990 کا اطلاق صرف ملازمت کے ابتدائی پروبیشنری مرحلے تک محدود ہے اور پروبیشن مکمل کرکے باقاعدہ ملازمت حاصل کرنے والے افسران کی سنیارٹی ان قواعد کی بنیاد پر تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے ریلوے افسران کی سنیارٹی سے متعلق فیڈرل سروس ٹریبیونل کا 19 ستمبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریری فیصلے میں کہا کہ دہائیوں سے رائج محکمانہ طریقۂ کار اور سی ایس ایس امتحان میں حاصل کردہ میرٹ کی بنیاد پر طے شدہ سنیارٹی کو بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ ریلوے کی جانب سے پرانی سنیارٹی فہرستوں میں ردوبدل اور ان تبدیلیوں کا ماضی سے اطلاق غیر قانونی ہے۔فیصلے کے مطابق محکمہ ریلوے کئی دہائیوں سے افسران کی سنیارٹی سی ایس ایس امتحان میں حاصل کردہ میرٹ کی بنیاد پر طے کرتا آ رہا تھا۔ تاہم محکمے نے 27 اگست 2014 کو نظرثانی شدہ سنیارٹی فہرست جاری کی، جسے سروس ٹریبیونل اور سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔بعد ازاں محکمہ ریلوے نے 29 جون 2022 اور 20 مارچ 2023 کو سی ایس ایس امتحان کے میرٹ کی بنیاد پر عارضی سنیارٹی فہرستیں جاری کیں۔
ان فہرستوں کے خلاف افسران نے فیڈرل سروس ٹریبیونل میں اپیلیں دائر کیں۔فیڈرل سروس ٹریبیونل نے 19 ستمبر 2025 کے فیصلے میں ریلوے کی فہرستیں کالعدم قرار دیتے ہوئے 1990 کے سروس رولز کے تحت نئی سنیارٹی فہرستیں تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پروبیشن کی مدت مکمل کرکے باقاعدہ ملازمت حاصل کرنے والے سول سرونٹس کی سنیارٹی متاثر نہیں ہونی چاہیے اور محکمہ ریلوے ماضی میں طے شدہ سنیارٹی کو بعد میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے فیڈرل سروس ٹریبیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔






