پلاسٹک آلودگی کو صرف کچرے کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ، اس کو مشترکہ ذمہ داری کے طور پر لینا ہوگا، سینیٹر شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پلاسٹک آلودگی کو صرف کچرے کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہے

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پلاسٹک آلودگی کو صرف کچرے کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہے،دنیا بھر میں 9 ارب ٹن سے زائد پلاسٹک پیدا ہو چکا ہے، پلاسٹک آلودگی کو کسی اور کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے مشترکہ ذمہ داری کے طور پر لینا ہوگا۔آئی سی ای پی پی پارلیمانی فورم برائے ایکسچینج آن پلاسٹک پلوشن سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک آلودگی کو صرف کچرے کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، پلاسٹک کی پیداوار، استعمال اور تلفی کے پورے عمل کو دیکھنا ہوگا، دنیا میں پلاسٹک کے صرف 9 فیصد کچرے کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ صرف ری سائیکلنگ پلاسٹک آلودگی کا حل نہیں، پیداوار اور استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،پلاسٹک کی پیداوار عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً 3.4 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سنگل یوز پلاسٹک کے قوانین پر عملدرآمد کا بڑا خلا موجود ہے،اس کے لیے قانون سازی کے ساتھ مؤثر عملدرآمد اور کم قیمت متبادل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا نظام پلاسٹک کے بڑھتے حجم سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہے، صارفین کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے سستے اور ماحول دوست متبادل فراہم کرنا ہوں گے، پلاسٹک آلودگی دریاؤں، ساحلی علاقوں اور آبی گزرگاہوں کےلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ دریائے سندھ کو ملنے والے ٹھوس کچرے میں پلاسٹک کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے، ہر سال ہزاروں ٹن پلاسٹک دریائے سندھ کے ذریعے بحیرہ عرب میں پہنچتا ہے، مائیکرو پلاسٹکس پانی، ماحول اور غذائی زنجیر میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پلاسٹک کی پیداوار، درآمد، استعمال اور ری سائیکلنگ کا شفاف ریکارڈ ہونا چاہیے، ملک میں پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کی شرح تقریباً ایک فیصد ہے، پلاسٹک بنانے والی کمپنیوں کو استعمال کے بعد کچرے کی ذمہ داری بھی اٹھانا ہوگی، پیکیجنگ کو دوبارہ استعمال اور ری سائیکل کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے، پلاسٹک آلودگی، ماحولیاتی تبدیلی، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل آپس میں جڑے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ملک شدید ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، پارلیمنٹ کو پلاسٹک آلودگی سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کےلئے عالمی تعاون کے ساتھ پاکستان میں بھی مؤثر اقدامات ضروری ہیں، پلاسٹک آلودگی کو کسی اور کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے مشترکہ ذمہ داری کے طور پر لینا ہوگا۔