پولیو کا خاتمہ حکومت، طبی عملے، والدین اور معاشرے کی مسلسل اور مربوط کوششوں کا تقاضا کرتا ہے، خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کاورلڈ پولیو ڈے پر پیغام

خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ حکومت، طبی عملے، والدین اور معاشرے کی مسلسل اور مربوط کوششوں کا تقاضا کرتا ہے، ضروری ہے کہ ہر فریق کی کوششیں دوسروں کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور ویکسین پلانے کی مہم، عوامی رابطے اور فرنٹ لائن کارکنوں کی معاونت ساتھ ساتھ جاری رہیں۔ انہوں نے یہ بات ورلڈ پولیو ڈے کے موقع …

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ حکومت، طبی عملے، والدین اور معاشرے کی مسلسل اور مربوط کوششوں کا تقاضا کرتا ہے، ضروری ہے کہ ہر فریق کی کوششیں دوسروں کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور ویکسین پلانے کی مہم، عوامی رابطے اور فرنٹ لائن کارکنوں کی معاونت ساتھ ساتھ جاری رہیں۔ انہوں نے یہ بات ورلڈ پولیو ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی جو 24 اکتوبر کو منایا جا رہا ہے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ آئیے ہم پولیو سے پاک پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں جہاں ہر بچہ صحت مند زندگی گزار سکے اور اس قابل تدارک بیماری سے محفوظ رہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ میرے دل کے بہت قریب ہے۔میری والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1994ء میں پولیو کے خاتمے کی پہلی ملک گیر مہم شروع کی اور سب سے پہلے مجھے پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی قومی کاوشوں کا نقطۂ آغاز تھا اور اس مقصد کے ساتھ ان کی گہری ذاتی وابستگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان نے پولیو کے خلاف جنگ میں پیش رفت کی ہے تاہم ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ویکسین سے محروم رہ جانے والا ہر بچہ اب بھی پولیو کے خطرے سے دوچار ہے۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی بچہ محروم نہ رہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لوگوں تک رسائی مشکل ہے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ والدین کے لیے بچے کو پولیو سے بچانا ایک ایسا فیصلہ ہے جو اس بچے کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔ میں تمام والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ پولیو ٹیموں کا خیرمقدم کریں اور ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے تجویز کردہ قطرے ضرور پلوائیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے بار بار ویکسین پلانے کی اہمیت سے خاندانوں کو آگاہ کرنے میں برادریوں کے بزرگوں، اساتذہ اور مقامی رہنماؤں کا بھی اہم کردار ہے۔

خاتون اول نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز بالخصوص خواتین ویکسینیٹرز کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مشکل حالات میں بچوں تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں کی لگن احترام اور معاونت کی مستحق ہے۔ ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار بھی اہم ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرنے والوں پر حملے ہمیں اس قومی کوشش سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت، طبی عملے، والدین اور معاشرے کی مسلسل اور مربوط کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔

ضروری ہے کہ ہر فریق کی کوششیں دوسروں کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور ویکسین پلانے کی مہم، عوامی رابطے اور فرنٹ لائن کارکنوں کی معاونت ساتھ ساتھ جاری رہیں۔انہوں نے کہا کہ ویکسین سے محروم رہ جانے والا ہر بچہ ہمیں اپنے ہدف سے مزید دور لے جاتا ہے۔ہمیں اس وقت تک کوششیں جاری رکھنی ہیں جب تک پاکستان کا ہر بچہ پولیو سے محفوظ نہ ہو جائے ۔ خاتون اول نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہے، لیکن اس کے لیے مسلسل کوشش اور ہم میں سے ہر ایک کی شرکت درکار ہوگی۔

مزید خبریں