پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمٰن پر کرپشن اور پرمٹس کے الزامات لگائے، آج وہ کس منہ سے ان کا بیانیہ اپنا رہے ہیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس
پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمٰن پر کرپشن اور پرمٹس کے الزامات لگائے، آج وہ کس منہ سے ان کا بیانیہ اپنا رہے ہیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات کو بے بنیاد، حقائق کے منافی اور اقتدار سے محرومی کا غصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ مولانا پر ڈیزل پرمٹس، بارہ سو سے زائد شہداء کے پلاٹوں میں خرد برد اور جی ایچ کیو سے مبینہ جائیدادیں الاٹ کرانے کے سنگین الزامات لگائے مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج مولانا فضل الرحمٰن اقتدار میں حصہ نہ ملنے کی پاداش میں انہی کے موقف اور بیانیے کی وکالت کر رہے ہیں۔پیر کے روز پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن پچھلے چند روز سے شدید غصے اور ہیجان کی کیفیت میں مبتلا ہیں حالانکہ اسلام غصے کی حالت میں خاموشی اور ہوش مندی کی تلقین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کا بنیادی درد اقتدار اور کے پی حکومت کا نہ ملنا ہے، مگر اقتدار عوام کے ووٹوں سے ملتا ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا۔
اب اگر سیاسی محرومی مقدر بنی ہے تو اس کی آڑ میں قومی اداروں اور پاک فوج کو نشانہ بنانا کسی بھی طور پر جائز نہیں۔حنیف عباسی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ اس لیے ناگزیر ہوا کیونکہ سابق پی ٹی آئی حکومت مکمل نااہل ہو چکی تھی اور بارہ سے زائد اضلاع میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے تھے۔ صوبائی حکومت دہشت گردوں، منشیات اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سمگلنگ کی سہولت کار بن چکی تھی جبکہ سونے اور معدنیات کے اربوں روپے کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ جاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پنجاب، سندھ یا بلوچستان کی طرز پر اپنی پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط کیا اور نہ ہی بکتر بند گاڑیاں اور بلٹ پروف جیکٹس دیں بلکہ کروڑوں پختون عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی ہے، انتشار کا خاتمہ ہوا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار و وفود دوبارہ ملک کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک آخری دہشت گرد کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتاG معدنیات کے مبینہ بیرونی معاہدوں سے متعلق الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن زبانی کلامی الزامات لگانے کے بجائے وہ پرمٹ، ایگریمنٹ یا دستاویز قوم کے سامنے لائیں کہ ملک کی کون سی زمین یا مائن کسی غیر ملکی قوت کو بیچی گئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ماضی میں سوات آپریشن ہوا اور دہشت گرد مارگلہ کی پہاڑیوں تک پہنچ چکے تھے، تو کیا وہ آپریشن بھی کسی معدنیات یا تیل و گیس کے لیے تھا؟حنیف عباسی نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور شہداء کی لازوال قربانیوں کا تنخواہوں سے موازنہ کرنا انتہائی شرمناک اور دل آزار ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان سرحدوں پر تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کی حرمت اور ‘لا الہ الا اللہ’ کے نظریے کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ افواج پاکستان میں پختون، پنجابی، سندھی، بلوچ اور کشمیری سب ایک پرچم تلے متحد ہیں، لہٰذا صوبائی، لسانی یا مذہبی کارڈ کھیل کر اداروں کو تقسیم کرنے کی کوششیں دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو مشورہ دیا کہ وہ 1971ء کے پلٹن میدان کی مثالیں دے کر شہداء کے زخموں پر نمک نہ چھڑکیں بلکہ اپنی عمر اور مرتبے کے مطابق تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انفرادی طور پر کسی شخص پر سیاسی تنقید اور پورے قومی ادارے پر حملہ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ مسلم لیگ (ن) یا میاں نواز شریف نے کبھی شہداء کی قربانیوں کی توہین نہیں کی اور نہ ہی فوج کے جوانوں کے خون کو متنازع بنایا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کے پاس نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی دلیل، وہ اقتدار کی محرومی کے غصے میں ریاست اور اداروں کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ دشمن کے بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے تدبر کا راستہ اختیار کریں۔








