چیف آرگنائزر پاکستان تحریک انصاف سیف اللہ خان نیازی کا ڈی چوک میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ سے خطاب

اسلام آباد ۔ 9 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے وادی پر مستقل قبضہ جمانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے اور آزاد کشمیر کی اسمبلی سے جہاد کی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر چیف آرگنائزر پاکستان تحریک انصاف سیف اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی جنت نظیر …

اسلام آباد ۔ 9 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرکے وادی پر مستقل قبضہ جمانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے اور آزاد کشمیر کی اسمبلی سے جہاد کی قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر چیف آرگنائزر پاکستان تحریک انصاف سیف اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی جنت نظیر وادی آج جیل کی کال کوٹھڑی بن چکی ہے۔ ہم آج ان بہنوں سے یکجہتی کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں جن پر قیامت صغرٰی ٹوٹ پڑی ہے۔کشمیر کی پاک دامن بہنوں کو گھروں سے نکال کے سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بدمعاش مگر بزدل ٹولے نے آرٹیکل 370 یکطرفہ منسوخ کرکے کشمیر پر مستقل قبضہ جمانے کی شرمناک کوشش کی ہے۔ بھارتی اقدام نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ 5 اگست2019 کے شرمناک بھارتی اقدام نے پاک-بھارت دو طرفہ معاہدوں کو ہی نہیں توڑا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ مودی سرکار کے اس احمقانہ فیصلے کے بعد کشمیر عملاً بھارت سے الگ ہوچکا ہے۔ سیاسی جگادری آج بھی کشمیریوں کی آواز بننے کی بجائے قومی اداروں اورحکومت سے سکور سیٹل کرنے میں لگے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھاکہ اس سے پہلے کہ ہم جہاد کی بات کریں ہم انڈیا کے بچے کھچے سیکولر لوگوں کو اپنی اقدار آزمانے کا موقع دیں گے۔ ہم محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو موقع دیں گے کہ وہ انڈیا کی سپریم کورٹ سے اپنے دل کی آخری حسرتیں دور کر لیں۔ ہم آزاد کشمیر کی اسمبلی سے مطالبہ کریں گے کہ وہ جہاد کی قرارداد پاس کرے پھرہم پاکستان کی پارلیمنٹ سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ کشمیر کے مظلوموں کے لئے کشمیر کی ریاست میں جہاد کا اعلان کرے۔ پرائیویٹ جہاد فساد کا راستہ کھولتا ہے۔جب ہم مسلمان ہیں اور ہماری مملکت پر اللہ کی حاکمیت ہے تو پھر ہمیں کون روک سکتا ہے کہ ریاست کشمیر کی زمین پر جہاد کا دروازہ کھول دیا جائے۔