چین،شین ژو-23 کے خلا بازوں نے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر پہلا مہینہ مکمل کر لیا

چین کے شین ژو-23 خلائی مشن کے تینوں خلا باز ژو یانگ ژو، ژانگ ژی یوان اور لی جیا ینگ نے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر اپنا پہلا مہینہ مکمل کر لیا ہے۔

بیجنگ۔29جون (اے پی پی):چین کے شین ژو-23 خلائی مشن کے تینوں خلا باز ژو یانگ ژو، ژانگ ژی یوان اور لی جیا ینگ نے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر اپنا پہلا مہینہ مکمل کر لیا ہے۔شنہوا کے مطابق چین کی انسانی خلائی ایجنسی (سی ایم ایس اے) کی جانب سے جاری وڈیو کے مطابق خلا بازوں کے ایک ماہ پر مشتمل خلائی مشن کی نمایاں سرگرمیوں میں پہلی مرتبہ خلا میں تازہ کدو پکا کر کھانے کا تجربہ بھی شامل ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خلا باز میٹھے کدو کے ٹکڑوں کو خلائی اوون میں رکھ کر تیار کرتے ہیں، جس سے خلائی سٹیشن پر گھریلو ماحول کی جھلک دکھائی دی۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عملے نے مختلف سائنسی تجربات بھی انجام دیے۔ خلائی طب کے شعبے میں انہوں نے الٹراساؤنڈ تشخیصی آلے کے ذریعے ایک دوسرے کی گردن، کلائی اور پیٹ کا معائنہ کیا۔ حاصل کردہ معلومات خون کی گردش، عضلات میں مائیکرو گریویٹی کے اثرات اور دیگر طبی تحقیق میں معاون ثابت ہوں گی۔

خلا بازوں نے خلائی روبوٹ کے ساتھ بھی مختلف تجرباتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مدار میں کام کرنے والے روبوٹس کی حرکت کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ ایجنسی کے مطابق عملے نے مختلف روشنی کے ماحول میں بصری اور حرکی ردعمل کے مطالعے کے لیے دماغی برقی سرگرمی (ای ای جی) سے متعلق تجربات بھی کامیابی سے انجام دیے۔صحت کی نگرانی کے پروگرام کے تحت خلا بازوں نے روایتی چینی طب کے تشخیصی آلے کے ذریعے اپنے جسمانی اعداد و شمار بھی جمع کیے، تاکہ طویل المدتی خلائی مشنز کے دوران صحت کی نگرانی سے متعلق تحقیق کو مزید موثر بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ چین نے 24 مئی کو شین ژو-23 انسان بردار خلائی جہاز روانہ کیا تھا۔ اس مشن میں ایک سالہ قیام کا تجربہ بھی شامل ہے، جس سے مستقبل کے طویل دورانیے کے خلائی مشنز کے لیے اہم معلومات حاصل ہوں گی۔