چائنا اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن لمیٹڈ کو سندھ میں قومی شاہراہ این-5 کے مخصوص حصوں کی بحالی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت مواصلات کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے 27 فروری 2026 کو منصوبے کی منظوری دی تھی۔
چینی کمپنی سندھ میں قومی شاہراہ این-5 کی بحالی کا کام کرے گی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):چائنا اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن لمیٹڈ کو سندھ میں قومی شاہراہ این-5 کے مخصوص حصوں کی بحالی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت مواصلات کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے 27 فروری 2026 کو منصوبے کی منظوری دی تھی۔
چائنا اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن لمیٹڈ کو اس منصوبہ کے لیے بولی دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جبکہ معاہدہ کا مسودہ بھی دستخط کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔منصوبے کے لیے چین کی جانب سے 100 ملین ڈالر کی مالی معاونت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ٹھیکیدار کا انتخاب اس بحالی منصوبے میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد پاکستان کی تذویراتی لحاظ سے اہم ترین قومی شاہراہوں میں سے ایک کے اہم حصوں کو بہتر بنانا ہے۔
قومی شاہراہ این-5 نقل و حمل کی ایک اہم ملکی شاہراہ ہے، جو مختلف بڑے شہروں، تجارتی مراکز، صنعتی علاقوں اور زرعی منڈیوں کو آپس میں ملاتی ہے۔مجوزہ بحالی کے نتیجے میں سڑکوں پر سفر کے دوران تحفظ میں اضافہ، ڈرائیونگ کے حالات میں بہتری، متعلقہ حصوں پر مسافر اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت میں آسانی، گاڑیوں کے آپریشنل اخراجات میں کمی اور نقل و حمل میں تاخیر کو کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ منصوبے سے ملک کے اندر اشیا کی ترسیل کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز، کاروباری اداروں اور مقامی آبادیوں کو فائدہ پہنچنے کی بھی توقع ہے۔چین کی جانب سے بلاعوض مالی معاونت بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اقتصادی تعاون کے لیے پاکستان اور چین کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جو تجارت، نقل و حمل کے انتظام اور علاقائی روابط کو براہ راست فروغ دیتے ہیں۔







