بیجنگ ۔28نومبر (اے پی پی):چین کی حکومت نے ٹریلین یوآن کھپت کےتین شعبے اورکھرب یوآن والی کھپت کےدس ہاٹ سپاٹ کی تشکیل پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق چین کی ریاستی کونسل نے ایک نیوز بریفنگ میں "صارفی مصنوعات کی طلب اور رسد میں ہم آہنگی اور کھپت کو مزید فروغ دینے سے متعلق عملی منصوبے" کی تفصیلی وضاحت کی ۔ بین الاقوامی …
چین کا ٹریلین یوآن کھپت کا نیا ہدف پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے، چینی میڈیا

مزید خبریں
بیجنگ ۔28نومبر (اے پی پی):چین کی حکومت نے ٹریلین یوآن کھپت کےتین شعبے اورکھرب یوآن والی کھپت کےدس ہاٹ سپاٹ کی تشکیل پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق چین کی ریاستی کونسل نے ایک نیوز بریفنگ میں "صارفی مصنوعات کی طلب اور رسد میں ہم آہنگی اور کھپت کو مزید فروغ دینے سے متعلق عملی منصوبے” کی تفصیلی وضاحت کی ۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ عالمی معاشی نمو کی سست روی کے پس منظر میں ، کھپت کو فروغ دینے کے لیے سی پی سی کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس کے بعد جاری کردہ یہ پالیسی دستاویز تمام فریقوں کے لیے ترقی کے نئے مواقع پید اکرے گی۔
منصوبے میں دو اہم ترقیاتی اہداف پیش کئے گئے ہیں ۔ 2027 تک، ٹریلین یوآن کھپت کےتین شعبے اورکھرب یوآن والی کھپت کےدس ہاٹ سپاٹ تشکیل دیے جائیں گے۔ 2030 تک، سپلائی اورکھپت کےدرمیان عمدہ تعامل اور باہمی فروغ پر مبنی ایک اعلیٰ معیار کی ترقی کا نمونہ بنیادی طور پر تشکیل پائے گا، اور اقتصادی ترقی میں کھپت کی شراکت کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوگا۔دنیا کی دوسری سب سے بڑی صارف منڈی کے طور پر، چین کی جانب سے پیش کردہ نئے کھپت کے اہداف بلاشبہ دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں۔ چین کی وسیع مارکیٹ کی توسیع دنیا کے لیے مزید مفید مواقع پیدا کرے گی ۔
چین اپنے کھلے پن کو بڑھا رہا ہے اور اپنی صارف منڈی کو بہتر بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں مزید اعلیٰ معیار کی غیر ملکی اشیا اور خدمات چین میں درآمد کی جائیں گی، اور چینی اشیاء کی برآمدات میں اضافہ عالمی صارفی منڈی کی بحالی میں بھی جان ڈالے گا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اختراع ، کھپت کے فروغ کی ایک اہم قوت ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال کی پہلی ششماہی تک، چین میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 515 ملین تک پہنچ گئی ہے، اور نئی مصنوعی ذہانت کی مصنوعات تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ اس تناظر میں مذکورہ عملی منصوبے میں کہا گیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز اور نئے ماڈلز کی جدت اور اطلاق کو تیز کیا جانا چاہیئے اس سے تمام کمپنیوں خصوصاً غیر ملکی کمپنیوں کے لیے جدت کے اہم مواقع فراہم ہوں گے۔








