ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے وفد کی ملاقات

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ایک وفد نے جمعرات کو ملاقات کی جس میں بچوں کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کی چیئرپرسن نگہت شکیل بھی موجود تھیں۔

اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ایک وفد نے جمعرات کو ملاقات کی جس میں بچوں کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کی چیئرپرسن نگہت شکیل بھی موجود تھیں۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی فلاح و بہبود قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس سلسلے میں پارلیمان کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ملاقات کے دوران ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان میں بچوں کو درپیش اہم چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب بھی لاکھوں بچے معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور مناسب غذائیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ ہر بچے کو سکول میں داخلہ، تشدد اور استحصال سے تحفظ اور بہتر صحت و غذائیت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں ہونے والی پیشرفت کو سراہا تاہم مکمل خاتمے کے لئے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بچوں میں سیسے (لیڈ) کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی اور اسے ایک سنگین مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا عوامی صحت کا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سیسے کے اثرات کی کوئی محفوظ حد نہیں ہے اور خاص طور پر کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں بچوں کی بڑی تعداد اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان میں صنعتی اخراج، غیر رسمی ری سائیکلنگ، سیسے پر مشتمل پینٹس، آلودہ غذائی اشیاء اور روایتی کاسمیٹکس جیسے سرمہ بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں ذہنی نشوونما کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، تعلیمی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور طویل المدتی صحت و معاشی مسائل جنم لے سکتے ہیں، جو قومی پیداوار اور انسانی وسائل پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان میں بچوں کے حقوق کے فروغ کے لئے یونیسف کے اہم کردار کو سراہا جو تکنیکی معاونت، فیلڈ میں موجودگی اور مسلسل وکالت کے ذریعے معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارلیمان قانون سازی، نگرانی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ بچوں کے لئے مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکیں اور یونیسف کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ پاکستان کے ہر بچے کے لئے بہتر مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں