ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ کے لیے فزیکل سکیورٹی ناگزیر ہے، پاک سرٹ کا سکیورٹی الرٹ جاری

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (پاک سرٹ) نے شہریوں اور ملازمین کو اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ کے لیے فزیکل سکیورٹی کو اولین ترجیح بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اصل سائبر سکیورٹی کا آغاز آلات اور دفاتر کی طبعی حفاظت سے ہوتا ہے۔

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (پاک سرٹ) نے شہریوں اور ملازمین کو اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ کے لیے فزیکل سکیورٹی کو اولین ترجیح بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اصل سائبر سکیورٹی کا آغاز آلات اور دفاتر کی طبعی حفاظت سے ہوتا ہے۔ پاک سرٹ کے مطابق ڈیوائسز اور اکاؤنٹس کے غیر مجاز استعمال، چوری یا گمشدگی کے نتیجے میں نہ صرف حساس ڈیٹا افشا ہو سکتا ہے بلکہ اس سے مالی نقصان، شناخت کی چوری (آئیڈینٹٹی تھیفٹ) اور ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی مہم کے تحت جاری کی جانے والی اس ایڈوائزری میں شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ڈیوائس کا گم ہو جانا، دفاتر میں داخلے کے کمزور حفاظتی اقدامات اور اجازت کے بغیر کسی کا تعاقب کرتے ہوئے حساس احاطے میں داخل ہونا (ٹیل گیٹنگ) تمام معلومات کو شدید خطرات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ادارے نے زور دیا ہے کہ حفاظت ہر فرد کی ذاتی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک کھلا دروازہ، لاوارث چھوڑی گئی ڈیوائس یا نظروں کے سامنے رکھا پاس ورڈ پورے نظام کی سکیورٹی کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔

پاک سرٹ نے محفوظ رہنے کے لیے بنیادی حفاظتی رہنما اصول بھی جاری کیے ہیں جن پر عمل درآمد کی سختی سے تاکید کی گئی ہےکہ اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے مضبوط اور پیچیدہ پاس ورڈز کا استعمال کریں۔اپنی شناختی دستاویزات، لاگ اِن کریڈینشلز اور ذاتی معلومات کسی سے شیئر نہ کریں۔غیر مجاز رسائی کو روکنے کے لیے جب بھی کام کی جگہ چھوڑیں، اپنی ڈیوائسز اور سکرین کو فوراً لاک کریں اور اپنے اردگرد کے ماحول سے چوکنا رہیں، مشکوک سرگرمیوں اور اجنبی افراد پر نظر رکھیں اور ہمیشہ ہوشیار رہیں۔