کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں اس عمل سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول اور انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر زراعت سرگودھا ڈویژن اشفاق احمد خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے جہاں …
کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں،محکمہ زراعت

مزید خبریں
سرگودھا ۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں اس عمل سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول اور انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر زراعت سرگودھا ڈویژن اشفاق احمد خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے جہاں فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں دمہ، سانس اور دیگر بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ کاشتکار کھیتوں میں دھان کی باقیات کو جلانے کی بجائے اس کو زمین میں ملا ہی دیں اور گہرا ہل چل دیں اس عمل سے زمین کی نامیاتی مادے کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور اگلی فصل کے لئے زمین کی زرخیزی میں بھی بہتری آتی ہے۔ کاشتکار دھان کی دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کے استعمال سے باقیات کو زمین میں ملائیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کر کے پانی لگا دیں۔ اس سے زمین کی زرخیزی میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
ڈائریکٹر زراعت نے کاشکاروں اور کسانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پنجاب کے قوانین کے مطابق دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابلِ سزاء جرم ہے۔ دھان کی باقیات کو جلانے والے کسانوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ اُنہوں نے کسانوں اور کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ اس غیر قانونی عمل سے گریز کریں اور ماحول کو آلودگی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔








