کاشتکاروں کو ادرک کی برداشت کے وقت گٹھلیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کامشورہ

لاہور۔ 03 دسمبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو ادرک کی برداشت کسی یا کھرپے کی مدد سے کرنے اور گٹھلیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے اورکہاگیاہے کہ ادرک کے کاشتکارفصل کی برداشت بروقت مکمل کریں اور رواں ماہ دسمبر کے آخری ایام میں جب ادرک کے پتے سوکھ جائیں اور ٹہنیاں نیچے گر پڑیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ فصل برداشت کیلئے تیار …

لاہور۔ 03 دسمبر (اے پی پی):کاشتکاروں کو ادرک کی برداشت کسی یا کھرپے کی مدد سے کرنے اور گٹھلیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کا مشورہ دیا گیا ہے اورکہاگیاہے کہ ادرک کے کاشتکارفصل کی برداشت بروقت مکمل کریں اور رواں ماہ دسمبر کے آخری ایام میں جب ادرک کے پتے سوکھ جائیں اور ٹہنیاں نیچے گر پڑیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ فصل برداشت کیلئے تیار ہے اور اس کی برداشت میں تاخیرسے گریز کرناچاہیے۔

محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد کے ڈائریکٹرچوہدری خالد محمود نے کہاکہ فصل کی برداشت کسی یا کھرپے کی مدد سے احتیاط سے کرنی چاہیے تاکہ گٹھلیاں زخمی نہ ہوں کیونکہ زخمی گٹھلیاں سٹوریج کے دوران بہت جلد خراب ہو جاتی ہیں جس سے منڈیوں میں اس کی اچھی قیمت نہیں ملتی اور کاشتکاروں و سبزی فروشوں کو بھاری مالی نقصان کاسامنا کرناپڑتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اگر اگلی فصل لگانے کیلئے بیج تیار کرنا ہو تو فصل کی برداشت فروری میں بھی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس دوران اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بارش وغیرہ کی صورت میں پانی زیادہ دیر کھیت میں کھڑا نہ رہے کیونکہ کھیت میں پانی کھڑاہونے سے ادرک کی گٹھلیاں زمین کے اندر ہی گل سڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دوسری صورت میں دسمبر کے آخر میں فصل کی برداشت شروع کر کے آئندہ فصل کیلئے صاف ستھری گٹھلیوں کو بھی ذخیرہ کیاجاسکتاہے۔

 

مزید خبریں
National Assembly session
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث جاری اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث بدھ کو بھی جاری رہی۔ایوان میں عام بحث کیلئے 40 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم بحث کا دورانیہ اس سے تجاوز کر گیا۔ اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن اور عوامی امنگوں کے عین مطابق قرار دیا جبکہ اپوزیشن نے زراعت سمیت مختلف شعبوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن شفقت عباس نے کہا کہ عام آدمی اور مزدور کے لئے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ہے، کروڑوں عوام کی نظریں اس ایوان پر ہیں، ان کو ریلیف دینا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے خطے میں امن کے لئے کردار پر پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہا جس سے دنیا بڑے نقصان سے بچی، بجٹ کا 42 فیصد قرض پر سود کی ادائیگی پر لگے گا، غیر ترقیاتی بجٹ نہ روکنے کی وجہ سے خسارے کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں اضافہ نہیں کیاگیا،اٹھارویں ترمیم کے تحت طے شدہ کئی وزارتیں صوبوں کو نہیں ملیں۔ عظیم الدین زاہد نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہوئی ہے، گزشتہ سال سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا تھا، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں مگر بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ کے دعوے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح کم ہے، ملک سے سرمایہ باہر جا رہا ہے۔ پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی ازبل زہری نے کہاکہ خواتین کیلئے بجٹ میں فنڈز کی فراہمی میں اضافہ ضروری ہے، خواتین مختلف رکاوٹوں کے باوجود مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مختلف منصوبے شروع کئے جائے اور ان پر موثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ مجموعی طور پر خواتین کے بطور شہری ان کے حقوق پر حملہ تھا، تیزاب اورخطرناک کیمیکلز کی سرعام فروخت کس طرح ہو رہی ہے، حکومت کو اس حوالہ سے ضابطہ جاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ازبل زہری نے کہاکہ خواتین کے خلاف استحصال کے خاتمہ اوران کوبااختیاربنانے کواولین ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے، خواتین پر سرمایہ کاری ملک کی ترقی وخوشحالی پرسرمایہ کاری کے برابرہے۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ 25 بار پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے مگر ہماری مشکلات کم نہ ہو سکیں، عام لوگ بجٹ سے لاتعلق ہیں، بجٹ میں آئی ایم ایف کی تمام ترسفارشات کوشامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی رائلٹی سے صوبوں کو ان کاحصہ مل رہاہے، صوبوں سے بجٹ نچلی سطح پر منتقل نہیں ہو رہا، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات بڑھ گئے ہیں مگر پھر بھی رونا دھونا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی وجہ سے ریکارڈ ترسیلات زر آ رہی ہیں، وفاقی حکومت ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں، ہمیں خلیجی ممالک میں اپنے شہریوں اور کارکنوں کے مفادات کاتحفظ کرنا چاہئے، پاکستانی افرادی قوت کویورپی مارکیٹس تک رسائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کوملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قراردیا جا رہا ہے مگر کسانوں اور ہاریوں کی حالت زار میں بہتری نہیں آ رہی۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کیلئے زیادہ فنڈز کی فراہمی پرتنقید کی اورکہاکہ اس کی بجائے زیادہ بجٹ تعلیم اورتربیت کیلئے مختص کیا جائے، گردشی قرضہ میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائے۔ مسلم لیگ (ن )کے رکن اظہر قیوم ناہرا نے کہا کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے،اللہ پاکستان کو ہمیشہ عزتوں سے نوازے، اپنے قائدین، عوام، عسکری و سیاسی قیادت کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،بجٹ میں قوم پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنے اور ہرممکنہ ریلیف دی گئی،ٹیکسوں میں مختلف شعبوں کو ریلیف دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کے لئے اقدامات ناکافی ہیں،اس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے،کسان کو صنعتکار سے زیادہ ریلیف ملنا چاہئے، کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہو گا، سولر پر کسانوں کو سبسڈی دی جائے،تیل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن عامر حسین مگسی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت نے امریکہ-ایران معاہدے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے، اس سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مشینری، کھادوں، ٹریکٹرز، کرم کش ادویات، بجلی پر کوئی سبسڈی نہیں اسی وجہ سے پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، واٹر مینجمنٹ کے مسائل بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلڈ سے اربوں روپوں کے نقصان کا سامنا ہوا تھا اس پر وفاق بھی اپنا حصہ ڈالے۔عامر مگسی نے کہا کہ زرعی تحقیق کے لئے جامعات کو مزید بہتر بنانا ہے،پانی کے ضیاع کو روکنا ہے، زراعت پر لگائے گئے ٹیکس پر نظرثانی کی جائے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بغیر کسی سیاسی وابستگی سے مستحقین مستفید ہوتے ہیں،اس کو سیاسی رشوت قرار دینا افسوسناک ہے۔ ایم کیو ایم کی رکن نکہت شکیل نے کہا کہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے،اس میں عوام کی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا گیا، مہنگائی کی شرح سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہونا چاہئے، صحت اور تعلیم کا بجٹ ملا کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے برابر نہیں،یہ ایک اچھا پروگرام ہے تاہم اس میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن بلال فاروق تارڑ نے کہاکہ سب سے پہلے میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو خطے میں امن کے لئے ان کی سفارتی کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،بجٹ 2026-27 میں عوام کو ریلیف دیا گیا ہے، کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں رعایت دی گئی، سپر ٹیکس اور اضافی سرچارج میں کمی کی گئی، رئیل اسٹیٹ اور برآمدی شعبے کے لئے ٹیکس کم کئے گئے، آئی ٹی برآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور کینسر کی ادویات کے خام مال پر ٹیکس ختم کیا گیا۔انہوں نے ک ہاکہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی کوشش انتہائی تشویشناک ہے۔ اس کا موثر جواب یہ ہے کہ پاکستان نئے ڈیم، آبی ذخائر اور ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام کرے تاکہ زراعت، معیشت اور قومی سلامتی کو محفوظ بنایا جا سکے۔یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کو متحد ہو کر پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ اور نئے ڈیموں کی تعمیر پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔