کسانوں کو روایتی سیلابی آبپاشی سے بتدریج زیادہ موثر طریقوں کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت ہے، ماہرین آبی وسائل

ماہری آبی وسائل نے کہا ہے کہ آبی وسائل میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے غیر متوقع رجحانات کے پیش نظر کسانوں کو روایتی سیلابی آبپاشی سے بتدریج زیادہ موثر طریقوں کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کے ادارہ تحقیقات آبپاشی (آئی آر آئی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ پاکستانی کسانوں کو سیلابی آبپاشی کا …

لاہور۔15اکتوبر (اے پی پی):ماہری آبی وسائل نے کہا ہے کہ آبی وسائل میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے غیر متوقع رجحانات کے پیش نظر کسانوں کو روایتی سیلابی آبپاشی سے بتدریج زیادہ موثر طریقوں کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کے ادارہ تحقیقات آبپاشی (آئی آر آئی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ پاکستانی کسانوں کو سیلابی آبپاشی کا طریقہ ایک دم مکمل طور پر ترک نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں بتدریج آبپاشی کے زیادہ موثر طریقوں کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیلابی آبپاشی پر ابتدائی لاگت نسبتاً کم آتی ہے اور پاکستان میں یہ طریقہ بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ تاہم آبپاشی کے ناقص انتظام کے باعث ضرورت سے زیادہ پانی کا استعمال، پانی کا بہائو، زمین میں پانی جمع ہونے اور مٹی میں نمکیات کی مقدار بڑھنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سب سے پہلے لیزر لینڈ لیولنگ، آبپاشی کے مناسب اوقات کے تعین اور کھالیوں کے ذریعے آبپاشی جیسے طریقوں سے موجودہ نظام کو بہتر بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ڈرپ اور سپرنکلر نظام کے معاشی اور تکنیکی فوائد سرمایہ کاری کا جواز فراہم کرتے ہوں، وہاں ان طریقوں کو متعارف کرایا جانا چاہیے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ڈرپ اور سپرنکلر سمیت آبپاشی کے ان موثر نظاموں کو مالی معاونت، تکنیکی تربیت اور دیکھ بھال کی مناسب سہولیات کے ذریعے بتدریج اپنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم جیسی فصلوں کے لیے موجودہ سیلابی آبپاشی کے نظام میں بہتری لانا ابتدائی قدم ہو سکتا ہے جبکہ موزوں باغات اور زیادہ مالیت والی فصلوں کے لیے ڈرپ آبپاشی معاشی طور پر پرکشش ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیوب ویلوں کے ذریعے سیلابی آبپاشی زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً جب پانی نکالنے کی مقدار قدرتی یا مصنوعی طریقوں سے دوبارہ جمع ہونے والے پانی سے زیادہ ہو۔آبی وسائل کے ماہرین نے پانی کے ذمہ دارانہ استعمال، موثر آبپاشی، کھالوں کی پختگی، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیر زمین پانی کے ذخائر کی بحالی اور پانی کے ذمہ دارانہ دوبارہ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر برائے آبی وسائل سہیل علی نقوی نے کہا کہ ٹیکنالوجی اس وقت زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ ایسی فصلوں کا انتخاب بھی کیا جائے جو مقامی آب و ہوا کے مطابق ہوں۔

اناج کی فصلوں کے ساتھ مونگ، چنے اور مسور جیسی دالوں کی باری باری کاشت سے زمین کی صحت بہتر ہوتی ہے اور پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت والے علاقوں میں کسان چاول اور گنے جیسی زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کے زیر کاشت رقبے کو کم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام کا انتخاب اور بروقت کاشت یقینی بنانے سے فصلوں کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران پاکستان کو قدرتی وسائل پر مبنی حل، موسمیاتی حالات کو مدنظر رکھ کر آبپاشی کے طریقوں، لیزر لینڈ لیولنگ اور کھالوں کی پختگی کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شہروں اور صنعتوں کو بھی پانی کے دوبارہ استعمال اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات میں اضافہ کرنا چاہیے، پانی کے ضیاع کو کم کرنا چاہیے اور زیر زمین پانی کے انتظام کو بہتر بنانا چاہیے۔ یہ ایسے عملی اقدامات ہیں جنہیں پہلے سے موجود نظاموں کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی کو ایک لامحدود ذخیرہ سمجھنے کی بجائے ایک اہم قومی تزویراتی وسیلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔آبی انتظام کے ماہرین کا خیال ہے کہ کسانوں کو آبپاشی کی جدید اور موثر تکنیکوں کی تربیت دینے سے پانی کے ضیاع میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔محکمہ اصلاح آبپاشی پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر عامر مشتاق نے کہا کہ کسانوں کو فصلوں کی پانی کی ضروریات اور زمین میں موجود نمی کی سطح کے مطابق آبپاشی کی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ پانی کے غیر ضروری استعمال سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ باری باری کھیت کو تر اور خشک رکھنے کا طریقہ، جسے آلٹرنیٹ ویٹنگ اینڈ ڈرائنگ (اے ڈبلیو ڈی) کہا جاتا ہے، مناسب انتظام کے ساتھ دھان کی فصل کے لیے آبپاشی کی ضروریات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔انہوں نے روایتی طریقے سے پنیری منتقل کرکے دھان کی کاشت کے متبادل کے طور پر براہ راست بیج بونے کے طریقے، ڈائریکٹ سیڈڈ رائس (ڈی ایس آر) کی بھی سفارش کی اور کہا کہ اس طریقے سے پانی کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔