کوئی بھی زیرک سیاستدان ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت نہیں کرسکتا، خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، سینیٹر شیری رحمان

کوئی بھی زیرک سیاستدان ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت نہیں کرسکتا، خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، سینیٹر شیری رحمان

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ کوئی بھی زیرک سیاستدان ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت نہیں کرسکتا، خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اس کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا اور ہمیں اپنی سرزمین واپس لینا ہوگی ، ملک وحدت سے چلتے ہیں کسی صوبے کو اپنی الگ خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار نہیں ، پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے ۔جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تو مذاکرات میں بڑی سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ بات کر کے کھلے دل اور صدق دل سے آئی تھی ،کوئی بھی زیرک سیاستدان خوش دلی سےاس فیصلے کے نفاذ کی حمایت نہیں کرتا،مارشل لا کے حالات اور ہوتے ہیں ،ہم نہیں چاہتے کہ ملک اس صورتحال سے دوچار ہو،پیپلز پارٹی کی یہی سوچ ہے کہ ہم نے جو تاریخ سے زخم اٹھائے ہیں وہ موجودہ اپوزیشن کو نہ اٹھانے پڑیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت تعلیم اور غربت کے خلاف ایمرجنسی کی ضرورت ہے،خطے کے حالات سب کے سامنے ہیں ،مشرق وسطیٰ میں کیا ہو رہا ہے اس کے براہ راست اثرات ہماری معیشت پر پڑ رہے ہیں جس سے عام آدمی برے حالات میں ہے ،اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پیپلز پارٹی ایسی کسی ایمرجنسی کی معاونت کرے گی جو ملک میں آئین سے ماورا ہو تو یہ سوچ غلط ہے ،یہ آئین میری پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی میراث ہے اور ہم نے ہی بنایا ہے ،ہم نے اس آئین کے ذریعے اس ملک کو مشکل حالات میں ہمیشہ جوڑ کر رکھا ۔ان کا کہنا تھا کہ سقوط ڈھاکہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے ،ہم نہیں چاہتے کہ یہ سبق آپ بھول جائیں ،صدر زرداری پراس حوالے سے تنقید کا جواز نہیں بنتا ،صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حتی الامکان کوشش کی کہ مذاکرات کی میز پر یہ مسائل حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ہمارے لیے سرخ لکیر ہے کیونکہ اسی دہشت گردی کی وجہ سے کارساز کاسانحہ ہوا، محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی ، اے پی سی کے طلبہ کو نشانہ بنایا گیا اور ہمارے کارکنوں کو شہید کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر سمیت اپوزیشن رہنماؤں کا ہم احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا بہت بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ، سب کو معلوم ہے کہ ٹی ٹی پی کو یہاں آباد کیا گیا ،ڈیرہ اسماعیل خان میں دن کے وقت کسی اور کی حکومت ہوتی ہے اور رات کے وقت کسی اور کی ، ہماری سرزمین ہمیں واپس چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سانحات ملک وحدت کے ساتھ برداشت کرتا ہے تنقید سے نہیں،بہت سے معاملات مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں،کسی بھی مذاکراتی عمل میں اعتماد سازی کا عمل بنیادی حیثیت رکھتا ہے،چار مرتبہ مذاکرات کا ڈرافٹ تبدیل کیا گیا جس پر مجھے شرمندگی ہو رہی تھی،یوں لگ رہا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور ہم بہت خوش تھے ہم سب نے سکھ کا سانس لیا اور یہ سوچ رہے تھے کہ ہم تقسیم سے بچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں رات کو کوئی نہیں نکل سکتا۔انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے یہ کہا تھا کہ سوات پر پاکستان کا جھنڈا لہرائیں گے اور اس کے بعد انہیں شہید کر دیا گیا،ہماری تربیت یہ ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور ریاست کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے،اگر صوبے اور وفاق کے درمیان معاہدہ ہو جاتا تو پولیس با اختیار ہوتی اور فوج سے آگے ہوتی،مجھے انتہائی دکھ ہے کہ پی ٹی آئی نے یہ سنہری موقع کھو دیا ، انہوں نے خود اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سے لانگ مارچ ہوئے ،

لانگ مارچ سے کوئی نہیں ڈرتا ،اعتماد سازی کے لیے ہمیں اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے تعطل کے بعد یہ کہا تھا کہ ہم مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا یہ کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی کال کے ساتھ یہ نہیں ہو سکتا،اگر اس دن مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو پی ٹی آئی کے لیے تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاناتھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کچی گولیاں کبھی نہیں کھیلیں اور یہ کام ہم نے پہلی مرتبہ نہیں کیا ،کوئی بھی سیاست دان خوش دلی سے ایمرجنسی نہیں لگانا چاہتا ،ہم نے اپنے 12اضلاع واپس لینے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کی اپنی خارجہ پالیسی بھی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے شکار کسی کے گھر سے جب اولاد کی میت اٹھتی ہے تو وہاں کیا ہوتا ہے یہ ہم سے پوچھیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست اگر ہماری ماں ہے اور فوج وہاں پر کھڑی ہے تو ہم سب کو اللہ کو حاضر ناظر مان کر سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہ صدرآصف علی زرداری نے اپنی جیل کے دنوں میں کبھی بھی لانگ مارچ کرنے کی ہدایت نہیں دی،جب ہم جیل ان سے ملنے کے لیے جاتے تھے تو اگر زیادہ لوگ ہوتے تو وہ ناراض ہوتے کہ اتنا بڑا قافلہ لانے کی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اب سوچ لینا چاہیے کہ وہ ملک کی وحدت چاہتے ہیں یا اپنی سیاست چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے بارے میں نہیں سوچتیں بیرونی قوتیں ان کو نقصان پہنچاتی ہیں،دشمنوں کا آپریشن سندور چل رہا ہے وہ اب بھی پراکسی وار چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن نہیں بلکہ یہ عالمی سرحد ہے،ہمیں متحد رہنا ہوگا اور ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنا ایجنڈا واضح کرنا چاہیے ،ان کا لانگ مارچ اگر فرد واحد کے لیے ہے تو ان سے بھی اس صورتحال میں معذرت کر لیں۔انہوں نے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حب الوطنی کا درس نہ دیا جائے ،وہ جانتے ہیں کہ میرا تعلق کس جماعت سے ہے۔

مزید خبریں