کپاس کے کاشتکاروں کے لئے 31 اکتوبر تک کی سفارشات جاری

کپاس کے کاشتکاروں کے لئے 31 اکتوبر تک کی سفارشات جاری

ملتان۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) نے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے 31 اکتوبر تک کی سفارشات جاری کر دیں۔ جمعرات کویہاں سی سی آر آئی میں فارمرز ایڈوا ئز ری کمیٹی کا بارہواں اجلاس ڈائریکٹرصباحت حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں کپاس کی فصل کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کاشتکاروں کے لئے چنائی، معیاری پھٹی کے حصول، بیج کے تحفظ، گلابی سنڈی کے تدارک اور آئندہ سیزن کی تیاری سے متعلق سفارشات جاری کی گئیں۔ اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے زرعی ماہرین نے شرکت کی۔کاشتکاروں کے نام جاری سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں کپاس کی فصل ختم ہو چکی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں فصل تاحال کھیتوں میں موجود ہے۔ اس لئے کاشتکار فصل کی موجودہ صورتحال کے مطابق بروقت اقدامات کریں تاکہ کپاس کے معیار کو برقرار رکھنے اورآئندہ فصل کو گلابی سنڈی کے حملے سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے۔

سفارشات میں مزید بتایا گیا ہے کہ کاشتکار کپاس کی چنائی کے لئے سوتی کپڑے کے تھیلے استعمال کریں ،تاکہ پھٹی میں غیر ضروری مواد کی آمیزش سے بچا جا سکے،چنائی کا عمل پودے کے نچلے حصے سے شروع کرکے بتدریج اوپر کی جانب جاری رکھا جائے تاکہ پتوں اوردیگرغیر ضر وری مواد کی آمیزش کم سے کم ہو۔ کھیت میں گری ہوئی کپاس کو صاف اور معیاری چنی ہوئی پھٹی میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ اس سے کپاس کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔

گلابی سنڈی سے متاثرہ ٹینڈوں کی چنائی احتیاط سے کی جائے اور ان سے حاصل ہونے والی پھٹی کو اچھی کپاس سے الگ رکھا جائے۔ کاشتکار چنائی کے دوران سانگلی اور دیگر غیر متعلقہ مواد سے پاک پھٹی حاصل کرنے کو یقینی بنائیں اور شبنم خشک ہونے کے بعد ہی چنائی کریں، وہ کاشتکار جو آئندہ سیزن میں اگیتی کپاس کاشت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ اپنی موجودہ کھڑی کپاس میں رایا کے بیج کی دو کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے چھٹہ کریں۔بیج کے تحفظ کے حوالے سے سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ جن کاشتکاروں نے بیج کے حصول کے لئے کپاس کاشت کی ہے، وہ بیج کے لئے منتخب پھٹی کی چنائی جلد از جلد مکمل کریں،حاصل شدہ پھٹی کو مناسب طریقے سے دھوپ لگوانے کے بعد جننگ کروائیں اور بیج کی اگاؤ کی صلاحیت کا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔صرف وہی بیج آئندہ کاشت کے لئے محفوظ کیا جائے جس کی اگاؤ کی شرح 80 فیصد سے زیادہ ہو۔

بیج کو ذخیرہ کرنے سے قبل اس میں نمی کا تناسب تقریباً 10 فیصد برقراررکھا جائے۔ مختلف اقسام سے حاصل ہونے والے بیج کو الگ الگ محفوظ کیا جائےتاکہ اقسام کی شناخت اور خال ص پن برقرار رہے۔سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ جن کھیتوں میں فی پودا آٹھ سے 10 سبز ٹینڈے موجود ہوں، وہاں کاشتکار دو کلوگرام یوریا فی 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں، اس اقدام سے موجود سبز ٹینڈوں کے کھلنے کے عمل میں مدد ملے گی۔گلابی سنڈی کے تدارک کےحوالے سے سفارش کی گئی ہے کہ جن کھیتوں میں فی پودا8 سے 10 ٹینڈے موجود ہوں اور کاشتکاروں نے جنسی پھندے استعمال نہ کیے ہوں، وہاں گلابی سنڈی کے حملے کی نگرانی کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق کیمیائی تدارک کیا جائے۔

ایسے کھیتوں میں گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے سپنٹورام 100 ملی لیٹر، یا کلور ینٹرانیلی پرول + لیمبڈا سائی ہیلوتھرین مکسچر 160 ملی لیٹر، یا ڈیلٹامیتھرین + ٹرائیزوفاس مکسچر 100 ملی لیٹر فی ایکڑ، 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کرنے کی سفارش کی گئی۔ کاشتکار متعلقہ دوا کے منظور شدہ لیبل اورزرعی ماہرین کی ہدایات کے مطابق سپرے کریں۔سفارشات میں گلابی سنڈی کے آئندہ سیزن میں پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بھی اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کاشتکار آخری چنائی مکمل ہونے کے بعد کھیتوں میں بھیڑ بکریاں چرائیں یا سی سی آر آئی ملتان کی پنک بال ورم مشین استعمال کریں ،تاکہ پودوں پر موجود باقی ماندہ ادھ کھلے اور متاثرہ ٹینڈوں کو ختم کیا جا سکے۔ اس عمل سے گلابی سنڈی کی افزائش اور آئندہ کپاس کی فصل میں اس کے حملے کے امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بیج کے لئے ایسی پھٹی کا انتخاب کیا جائے جو گلابی سنڈی یا بارش سے متاثرہ نہ ہو۔ڈسکی کاٹن بگ کے حملے سے متاثرہ کھیتوں میں کلوتھیانیڈن 200 ملی لیٹر فی ایکڑ، 100 لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کاشتکار سپرے سے پہلے کیڑے کے حملے کی شدت اور متعلقہ دوا کے منظور شدہ لیبل کے مطابق ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کپاس کی چنائی اور بیج کے تحفظ کے دوران صفائی، معیار اور احتیاطی تدا بیر کو ترجیح دیں۔ گلابی سنڈی سے متاثرہ ٹینڈوں اور فصل کی باقیات کو کھیتوں میں چھوڑنے سے گریز کریں اور آئندہ سیزن میں گلابی سنڈی کے حملے کو کم کرنے کے لئے فصل کی باقیات کا مناسب انتظام یقینی بنائیں۔

مزید خبریں