کے پی حکومت کا مراعاتی بل ’’سیاسی رشوت‘‘ اور وی آئی پی کلچر کی بدترین مثال ہے، وفاقی حکومت صوبائی بل ماننے کی پابند نہیں۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کا دوٹوک اعلان

طلال چوہدری کی خیبرپختونخوا اسمبلی کے مراعاتی بل پر شدید تنقید، اسے سیاسی رشوت قرار دے دیا

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے والے نئے مراعاتی بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’سیاسی رشوت‘‘ اور تحریک انصاف کے دوہرے معیار کا عکاس قرار دے دیا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کے پی اسمبلی کا منظور کردہ بل اور اس کے تحت دی جانے والی غیر منصفانہ مراعات وفاقی حکومت پر کسی صورت لازم نہیں ہیں اور وفاق اس ماورائے قانون اقدام کو تسلیم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر ختم کرنے کے دعویداروں نے قانون سازی کے ذریعے اشرافیہ کے لیے مراعات کی نئی اور شرمناک مثال قائم کی ہے۔وزیر مملکت طلال چوہدری نے بل کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبائی اسمبلی کی قانون سازی یا لیجسلیشن وفاقی حکومت کے لیے بائنڈنگ نہیں ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلیو پاسپورٹ تاحیات دینے کی اجازت نہیں، وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پچھلے دو سالوں میں کفایت شعاری کے تحت بلیو (آفیشل) پاسپورٹس کی تعداد پہلے ہی آدھی کر دی ہے، اب یہ پاسپورٹ صرف اور صرف آفیشل ڈیوٹی پر مامور افراد کو ملیں گے، کسی کو خوش کرنے یا سیاسی مراعات کے طور پر کے پی اسمبلی کے تحت تاحیات بلیو پاسپورٹ جاری نہیں کیے جائیں گے۔ کے پی حکومت کی جانب سے اراکین کو بغیر فیس کے ڈبل اور ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسز دینے کے فیصلے پر انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ نے وزیراعظم کے حکم پر ممنوعہ بور کے لائسنسز کے اجراء میں پچھلی حکومتوں کے مقابلے 95 فیصد تک کمی کر دی ہے۔غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسز میں بھی 60 سے 65 فیصد تک کمی کی جا چکی ہے اور اب صرف متعلقہ اور حقدار لوگوں کو کڑی جانچ پرکھ کے بعد ہی لائسنس دیا جاتا ہے۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور ہیں، لوگوں کو کچھ بتاتے ہیں اور خود کچھ اور کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے تھے کہ اقتدار میں آ کر گورنر ہائوس گرا دیں گے، وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنائیں گے، ریسٹ ہائوسز نجی تحویل میں دیں گے اور اراکین اسمبلی عام آدی کی طرح رہیں گے، لیکن کے پی اسمبلی کے بل کے مطابق اب اراکین اسمبلی کے لیے ٹول ٹیکس فری کر دیا گیا ہے، وہ سرکاری ریسٹ ہائوسز میں بغیر ادائیگی کے تاحیات مفت رہ سکتے ہیں، ان کی گاڑیوں پر کالے شیشے، خاص نمبر پلیٹس اور مفت سکیورٹی ہوگی۔ طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کے عام آدمی کو یہ سب سہولتیں حاصل ہیں؟ وزیر مملکت نے پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ماضی میں ان کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا، وہ اس آفیشل پاسپورٹ پر یورپ گیا اور وہاں جا کر اسی پاسپورٹ کو سرنڈر کر کے سیاسی پناہ لے لی اور پاکستانی قومیت چھوڑ کر دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ انہی کرتوتوں کی وجہ سے ماضی میں ہمارے پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ نیچے گرتی تھی۔طلال چوہدری نے وفاقی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حکومت کی ٹھوس قانون سازی، سکیورٹی فیچرز کی بہتری اور جعلی پاسپورٹس کے خاتمے کی بدولت پچھلے سوا دو سالوں میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ 25 سے 30 درجے بہتر ہوئی ہے، جو پاسپورٹ دنیا میں 120، 125 یا 130 ویں نمبر پر تھا وہ اب 100 سے نیچے آ چکا ہے۔ اسی وجہ سے کئی یورپی ممالک اور گلف سٹیٹس نے پاکستان کے آفیشل، ڈپلومیٹک اور گرین پاسپورٹ کے لیے ویزا فری انٹری کے معاہدے سائن کیے ہیں۔ انہوں نے آخر میں عزم دہرایا کہ وفاقی حکومت ایسی کسی بھی قانون سازی کو نافذ نہیں کرے گی جو ملکی پاسپورٹ کی رینکنگ کو متاثر کرے یا جو سیاسی رشوت پر مبنی ہو، کیونکہ ایسی غیر منصفانہ مراعات کی کوئی آئینی و اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔

مزید خبریں