فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ گنا، گندم اور دالوں کی کاشت میں اضافہ کرکے ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچا یا جاسکتا ہے اور مہنگی غذائی درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے
گنا، گندم اور دالوں کی پیداوار بڑھا کر اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچا یا جاسکتا ہے،شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔26جولائی (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ گنا، گندم اور دالوں کی کاشت میں اضافہ کرکے ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچا یا جاسکتا ہے اور مہنگی غذائی درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ اتوار کو ندا طارق چوہدری کی قیادت میں خواتین کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں جدید کاشتکاری، موسمی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اعلیٰ پیداوار دینے والے بیج، موثر آبپاشی نظام، زرعی مشینری اور معیاری زرعی مداخل کی بروقت فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کسانوں کی رہنمائی کے لیے زرعی تحقیق اور توسیعی خدمات کو بھی مزید موثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غذائی خودکفالت کے حصول، زرعی پیداوار بڑھانے اور قابلِ کاشت زمین کے موثر استعمال کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی، کیونکہ ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم، دالوں اور دیگر غذائی اشیا درآمد کرنا پڑتی ہیں، جس سے قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ اس موقع پر وفد کی سربراہ ندا طارق نے کہا کہ مالی سال 26-2025کے دوران خوراک کی درآمدات کا بل بڑھ کر9.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پام آئل، دالیں، چائے، سویا بین آئل اور چینی درآمدی غذائی اشیا میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں، جبکہ چینی کی درآمدات میں گزشتہ مالی سال کے دوران غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، نجی شعبے اور کسانوں کی مشترکہ کوششوں سے نہ صرف غذائی درآمدات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔








