گندم کی بروقت کاشت بہتر پیداوار کی بنیاد ہے، کاشتکار 20 نومبر تک بجائی مکمل کریں، ڈاکٹر ساجد الرحمن
گندم کی بروقت کاشت بہتر پیداوار کی بنیاد ہے، کاشتکار 20 نومبر تک بجائی مکمل کریں، ڈاکٹر ساجد الرحمن

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 02 اکتوبر (اے پی پی):چیف سائنسدان، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادڈاکٹر ساجد الرحمن نے کہا ہے کہ گندم کی بہتر پیداوار کے لیے معیاری اور تصدیق شدہ بیج کے استعمال کے ساتھ ساتھ بروقت کاشت انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار گندم کی بجائی ہر صورت 20 نومبر تک مکمل کریں تاکہ فصل کو بہتر پیداوار کے لیے موزوں موسمی حالات میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی جانب سے گندم کی ایسی نئی اقسام کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جو نہ صرف زیادہ پیداواری صلاحیت رکھتی ہوں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ چیلنجز کا بھی مقابلہ کر سکیں۔
ان اقسام میں خشک سالی، شدید گرمی اور مختلف بیماریوں کے خلاف برداشت کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عروج، فلک اور سویرا گندم کی ایسی نئی اقسام میں شامل ہیں جنہیں بالترتیب 2022 اور 2024 میں منظور کیا گیا۔ ان اقسام میں گرنے (Lodging) کے خلاف بہتر مزاحمت، گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت اور اچھی پیداواری صلاحیت پائی جاتی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی زمین اور علاقے کے مطابق مناسب قسم کا انتخاب کریں اور صرف تصدیق شدہ معیاری بیج استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ اچھی زمین کا انتخاب، زمین کی مناسب تیاری، معیاری بیج، موزوں قسم اور بروقت کاشت گندم کی کامیاب پیداوار کے بنیادی عوامل ہیں۔چیف سائنسدان نے کہا کہ کاشتکار روایتی چھٹہ طریقہ کاشت کے بجائے لائنوں میں گندم کی کاشت کو ترجیح دیں۔ تحقیق کے مطابق لائنوں میں کاشت سے چھٹہ طریقہ کے مقابلے میں پیداوار میں نمایاں اضافہ حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ آئندہ مراحل میں جڑی بوٹیوں کے مؤثر کنٹرول اور فصل کی بہتر دیکھ بھال میں بھی آسانی رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے زرعی توسیعی نظام کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے زمیندار بھائی جدید زرعی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے گندم کی کاشت کو یقینی بنائیں۔ڈاکٹر ساجد الرحمن نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کے بیج سے متعلق ادارے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے مختلف آؤٹ لیٹس پر مذکورہ نئی گندم کی اقسام کا تصدیق شدہ بیج دستیاب ہے، جہاں سے کاشتکار اپنی ضرورت کے مطابق معیاری بیج حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں مستقبل کی گندم کی فصل کے لیے ایسی اقسام کا انتخاب ناگزیر ہے جو زیادہ پیداوار کے ساتھ ساتھ گرمی، خشک سالی اور بیماریوں کے خلاف بھی بہتر برداشت رکھتی ہوں۔








