گورنرپنجاب کا فیصل آباد میں سرکلر سٹی کے قیام کا اعلان

:گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خاں نے شہر میں سرکلر سٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل آباد پاکستان کی برآمدات میں نمایاں حصہ رکھتا ہے اس لیے یہاں صنعتی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں اور تاجروں کو درپیش مسائل …

فیصل آباد ۔ 19 اکتوبر (اے پی پی):گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خاں نے شہر میں سرکلر سٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل آباد پاکستان کی برآمدات میں نمایاں حصہ رکھتا ہے اس لیے یہاں صنعتی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں اور تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی قیادت سے کاروباری برادری کی ملاقات کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مقامی صنعتکاروں کو عالمی منڈیوں میں سخت مسابقت کا سامنا ہے لہٰذا موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملک کے اہم تجارتی اداروں میں شامل ہے اور قومی برآمدات میں اس کا قابل ذکر حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی صنعتی اہمیت اور برآمدی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جو کاروباری سرگرمیوں میں اضافے ، صنعتوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہوں ۔ انہوں نے سرکلر سٹی کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو عملی شکل دی جانی چاہیے تاکہ فیصل آباد کی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں ۔ گورنر پنجاب نے کاروباری برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے مشکل ہیں اور ان کے مسائل کا حل ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کاروباری طبقے کے جائز مطالبات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات عالمی منڈیوں میں ”میڈ اِن پاکستان“ کے نام سے متعارف ہوں تاکہ ملکی مصنوعات کی شناخت مستحکم ہو اور پاکستان کی برآمدی ساکھ مزید بہتر ہو۔

انہوں نے کہا کہ متعدد مصنوعات پاکستان سے برآمد کی جاتی ہیں تاہم ان پر پاکستانی ساخت کی واضح شناخت درج نہیں ہوتی،مقامی مصنوعات کی شناخت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی صنعتی صلاحیت اور پیداواری معیار کو اجاگر کیا جا سکے۔ انہوں نے جامعات اور صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایت کریں گے کہ وہ صنعتی شعبے کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کے لیے باقاعدہ کمیٹیاں تشکیل دیں اور ایک فوکل پرسن بھی مقرر کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں ہونیوالی تحقیق اور دستیاب علمی و فنی صلاحیت کو صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کاروباری ادارے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان روابط کے اس سلسلے کا آغاز فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے کیا جائے گا۔ ان کا دفتر بھی آئندہ ہفتے ایک فوکل پرسن مقرر کر دے گا تاکہ صنعتکاروں کے مسائل اور تجاویز پر رابطے کا موثر نظام قائم کیا جا سکے۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ وہ معاملات کو محض وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے فوری نتائج دینے پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کام کو کل پر چھوڑنے کے قائل نہیں اور ان کا دفتر کاروباری برادری کے جائز کاموں میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کی تکمیل میں معاونت کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ صنعتوں اور جامعات کے درمیان روابط کے فروغ سمیت کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے فوری پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں کو بہتر اور مستحکم بنانا ضروری ہے تاکہ صنعتوں کو کاروباری منصوبہ بندی میں سہولت ملے اور پیداواری لاگت پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ قومی محصولات میں اضافے کا بوجھ صرف ان طبقات پر نہ پڑے جو پہلے ہی باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنیوالے کاروباری افراد مسلسل مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کیا جائے اور محصولات کی وصولی کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فیصل آباد کی کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر معروف بزنس مین ریحان اشرف کے قتل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور گورنر پنجاب نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو آئندہ چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا اشد ضروری ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور شہریوں میں تحفظ کا احساس برقرار رہے۔