تہران۔27جنوری (اے پی پی):امریکا کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے تناظر میں ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائیں گے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ کے دوران …
ہمارے خلاف کسی بھی حملے سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا، ایران کا پھر انتباہ

مزید خبریں
تہران۔27جنوری (اے پی پی):امریکا کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے تناظر میں ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائیں گے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی عسکری حملے کا ایسا جواب دے گا جس پر حملہ آور پچھتائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت بھی ایک ہمہ گیر ہائبرڈ جنگ کا سامنا کر رہا ہے جو گزشتہ جون میں اسرائیل اور امریکاکی جانب سے کی جانے والی عسکری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی دھمکیاں گزشتہ کئی ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں تاہم خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ عدم استحکام ایک متعدی عمل ہے اور ان خلفشاروں کے اہداف صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایران آج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایک جامع اور فیصلہ کن جواب دے گا جو دشمن کے لیے پشیمانی کا باعث بنے گا۔ ترجمان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی مندوب سٹیو وٹکوف کے درمیان کسی رابطے کے حوالے سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔
یورپی پارلیمان کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر انہوں نے اسے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے کئی منفی اثرات ہوں گے اور ایران اس کا جواب دے گا۔ عراق میں حکمرانی سے متعلق صورتحال پر بات کرتے ہوئےانہوں نے واضح کیا کہ وہاں ہونے والی پیش رفت مکمل طور پر عراقی عوام کا اندرونی معاملہ ہے، یہ بیان نئی حکومت کی تشکیل کی جانب اشارہ تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی جنگی طیارے اور فوجی سازوسامان مشرق وسطیٰ پہنچ چکا ہے، جہاں چند روزہ تیاری کی مشقیں کی جائیں گی، جیسا کہ امریکی مرکزی کمان نے واضح کیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف عسکری آپشن کی بارہا دھمکی دی تھی ۔








