بشکیک۔28نومبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ ہمارے زیر قبضہ اپنے علاقوں سے دستبردار نہیں ہوجاتا، یوکرینی حکومت ان علاقوں پر ہمارے دعوے کو تسلیم کرے ورنہ ہم طاقت سے ان علاقوں کو لے لیں گے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ بات روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے دورہ کرغزستان کے دوران کہی۔ انہوں نے …
ہمارے زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار ی تک یوکرین کے ساتھ جنگ جاری رہے گی، روسی صدر

مزید خبریں
بشکیک۔28نومبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ ہمارے زیر قبضہ اپنے علاقوں سے دستبردار نہیں ہوجاتا، یوکرینی حکومت ان علاقوں پر ہمارے دعوے کو تسلیم کرے ورنہ ہم طاقت سے ان علاقوں کو لے لیں گے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ بات روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے دورہ کرغزستان کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لئے یوکرین کو ان علاقوں سے دستبردار ہونا پڑے گا جن پر روس ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج یوکرینی آرمی کو آہستہ آہستہ مہنگی جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے،مخالفین نے ہمارے علاقوں سے دستبرداری نہ اختیار کی تو ہم ان پر بزور قبضہ کرلیں گے۔ ادھر امریکا تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا دبائو بڑھا رہا ہے، اس نے ایک حیرت انگیز منصوبہ پیش کیا ہے جسے وہ روس اور یوکرین کے ساتھ آنے والے مذاکرات میں حتمی شکل دینے کی امید کر رہا ہے۔
یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر روس کا کنٹرول ہے، مقبوضہ زمین امن کی راہ میں رکاوٹ ہے جسے یوکرین نے کہا ہے کہ وہ کبھی نہیں چھوڑے گا ۔ بات چیت میں ایک اور اہم مسئلہ یوکرین کے لیے مغربی سلامتی کی ضمانتیں ہیں، یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کو مستقبل میں دوبارہ حملہ کرنے سے روکنے کے لیے ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ امریکا کا اصل منصوبہ جو یوکرین کے یورپی اتحادیوں کے بغیر تیار کیا گیا ، میں دیکھا جائے گا کہ یوکرینی حکومت اپنے مشرقی ڈونیٹسک علاقے سے دستبردار ہو جائے گی اور ریاستہائے متحدہ ڈونیٹسک، کریمیا اور لوگانسک کے علاقوں کو روسی علاقے تسلیم کرے گا۔ امریکا نے یوکرین اور یورپ کی تنقید کے بعد ہفتے کے آخر میں اصل منصوبے کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن ابھی تک نیا ورژن بھی جاری نہیں کیا ۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جنہوں نے نیا منصوبہ دیکھا ہے، کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ہم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ پلان مستقبل کے معاہدوں کی بنیاد بن سکتا ہے،روس اب بھی مقبوضہ علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کا خواہاں ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے اعلیٰ معاون آندری یرماک نے گزشتہ روز امریکی آؤٹ لیٹ دی اٹلانٹک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جب تک ولودیمیر زیلنسکی صدر ہیں کسی کو بھی ہم سے اپنا علاقہ چھوڑنے توقع نہیں رکھنی چاہیے،1,100 کلومیٹر (700 میل) فرنٹ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ولودیمیر زیلنسکی علاقہ چھوڑنے کے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس دعوے کو دہرایا کہ روس نے یوکرین کے مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے پوکروسک اور میرنوگراڈ میں یوکرین کی فوج کو گھیرے میں لے لیا ہے جو انتہائی شدید جنگ زدہ علاقہ ہے اور ماسکو کی افواج کا ایک اہم ہدف ہے۔ انہوں نے شہروں کے روسی ناموں کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ کراسنوارمیسک اور دیمتروف کو مکمل طور پر گھیر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماسکو ووچانسک اور سیورسک میں بھی پیش قدمی اور ساتھ ہی گلیا پول کے اہم لاجسٹک مرکز تک پہنچ رہا ہے ۔
25 سال تک اقتدار میں رہنے والے صدر پیوٹن نے ولادیمیر زیلنسکی کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنا اس وقت قانونی طور پر تقریباً ناممکن ہو گا۔ امریکا میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار ( آئی ایس ڈبلیو) کے اے ایف پی کے تجزیہ کردہ اعداد و شمار کے مطابق، روسی افواج نے 2025 میں ہر ماہ اوسطاً 467 مربع کلومیٹر (180 مربع میل) علاقہ فتح کیا، یہ 2024 میں کیے گئے اوسط قبضے سے زیادہ ہے۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر اپنے مکمل حملے کا آغاز کیا، جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں بدترین مسلح تصادم شروع ہوا۔ اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے اور لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یوکرین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پوکروسک اور میرنوگراڈ کو گھیرے میں لیا گیا ہے، اور اصرار کیا ہے کہ اس کی افواج فرنٹ لائن پر دشمن کو پکڑے رہیں۔








