اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھالنا ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کا صحیح چہرہ دکھانے کے لیے خود کو اس قابل بنا سکیں کہ ہم زبان سے دعوت دینے کی بجائے انہیں اپنے کردار سے دعوت دے سکیں۔پیر کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی …
ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنے کو اس طرح ڈھالنا ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کا صحیح چہرہ دکھانے کے قابل بنا ئیں ، سردار محمد یوسف

مزید خبریں
اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھالنا ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کا صحیح چہرہ دکھانے کے لیے خود کو اس قابل بنا سکیں کہ ہم زبان سے دعوت دینے کی بجائے انہیں اپنے کردار سے دعوت دے سکیں۔پیر کو ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مقابلہ حسن قرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی اور بابرکت دن ہے اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہم یہاں پر پہلا عالمی مقابلہ حسن قرات منعقد کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے سابق دور حکومت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر ہم نےجن اصلاحات کا آغاز کیا تھا ہماری کوشش ہے کہ ہم وزارت مذہبی امور کو انہیں خطوط پر دوبارہ استوار کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہم نے علماء و مشائخ کونسل کا کنونشن منعقد کرایا ہے، نظام صلوۃ اور قرآن بورڈ کے قیام کے لیے کام کا اغاز کیا، انہوں نے کہا کہ قرآن حکیم سرچشمہ ہدایت ہے اس حوالے سے تقریب کا انعقاد انتہائی خوشی کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے 40 ممالک سے قراء حضرات اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں جو ہمارے لئے بڑی سعادت کی بات ہے،اس سے ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی زبان عربی ہے جو ہم سب کے لیے سیکھنا لازمی ہے تاکہ ہم قران پاک کو پڑھ اور سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ امید ہے کہ اس بابرکت محفل کی وجہ سے ملک میں عربی کی تعلیم رائج کرنے میں مدد ملے گی ،ہم نے اس حوالے سے مختلف یونیورسٹیوں سے بھی رابطے کیے ہیں ،عربی کو سیکھنے اور سکھانے کے پروگرام کے آغاز کے لیے وزارت مذہبی امور کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تقریب کے انعقاد کے لیے معروف اور عالمی شہرت یافتہ قاری سید صداقت علی کی کاوشیں لائق تحسین ہیں،24 سے 27 نومبر تک یہ مقابلہ جاری رہے گا۔ 29 نومبر کو اختتامی تقریب ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن حکیم کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں قرآن پاک محفوظ ہے ۔قرآن حکیم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا حکم ہے اور یہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔
قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہو کر ہم دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی علماء مشائخ کونسل اس لیے قائم کی ہے کہ ہم یہاں جو بھی قدم اٹھائیں اس میں علماء و مشائخ کی رہنمائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو اسلام کا اصل چہرہ دکھانا چاہتے ہیں ۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم ہے ہمیں کسی تفرقہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔
پوری انسانیت کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم خود کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے تاکہ دنیا کو زبان سے نہیں اپنے کردار سے دعوت دینے کے قابل ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، مصر ،ترکی ،ایران اور یو اے ای کی طرز پر ہم پاکستان میں بھی نظام صلوۃ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اس حوالے سے وزارت مذہبی امور اپنا کام جاری رکھے گی۔








