اقوام متحدہ ۔27جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (انروا )نے مشرقی یرو شلم میں قائم اپنے مرکزی دفتر کو نذر آتش کرنے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کی اجازت دینے پر اسرائیلی حکام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی مہاجرین کی حیثیت اور تاریخ کو مٹانا ہے،واقعے میں آتش زنی کرنے والوں نے ادارے کے کمپائونڈ …
یرو شلم میں عالمی ادارے کی آتشزدگی قابل مذمت ،اس کا مقصد علاقے میں فلسطینی مہاجرین کی حیثیت اور تاریخ کو مٹانا ہے،کمشنر جنرل انروا فلپ لازینی

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔27جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (انروا )نے مشرقی یرو شلم میں قائم اپنے مرکزی دفتر کو نذر آتش کرنے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کی اجازت دینے پر اسرائیلی حکام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی مہاجرین کی حیثیت اور تاریخ کو مٹانا ہے،واقعے میں آتش زنی کرنے والوں نے ادارے کے کمپائونڈ پر دھاوا بول کر عمارت کے بعض حصوں کو منہدم کردیا تھا۔
انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازینی نے گزشتہ روز جاری ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی شرپسندوں نے عالمی ادارے کے ریجنل ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا اور عمارت کے بعض حصوں کو شدید نقصان پہنچایا یہاں تک کہ ایک حصہ منہدم ہوگیا،یہ اقوام متحدہ کے کسی بھی ادارے پر تازہ ترین حملہ ہے جس کے لیے صیہونی حکام نے کھلی چھٹی دے رکھی تھی،اس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی مہاجرین کی حیثیت اور تاریخ کو مٹانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی کوئی حد باقی نہیں رہی،ادارے کی املاک کو آتش زنی کا نشانہ بنانا اسرائیل کی وسیع پیمانے پر گمراہ کن مہم کا حصہ ہے۔فلپ لازارینی نے یاد دلایا کہ گزشتہ اکتوبر میں عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے )نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ اسرائیل انروا کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے انہیں سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے، عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا کوئی دائرۂ اختیار نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ منگل کو اسرائیلی حکام کی جانب سے شیخ جراح میں واقع انرواکے کمپاؤنڈ میں بلڈوزر داخل کیے گئے جہاں اس کی عمارتوں کو منہدم کیا ۔
اس اقدام کی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک سمیت اعلیٰ حکام نے فوری طور پر مذمت کی۔اس سے قبل 14 جنوری کو اسرائیلی فورسز نے مشرقی بیت المقدس میں انروا کے ایک طبی مرکز میں داخل ہو کر اسے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ ادارے کے مطابق اس کارروائی کے دوران عملہ شدید خوف و ہراس کا شکار رہا جبکہ صورتحال کی خرابی اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے دسمبر میں منظور کیے گئے قوانین کا نتیجہ ہے جن کے ذریعےانروا کے خلاف پہلے سے موجود قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا۔








