یورپی یونین کا آرکٹک خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا منصوبہ

یورپی یونین آج (منگل کو) آرکٹک خطے میں اپنی موجودگی مستحکم بنانے کے منصوبوں کا اعلان کرے گی۔بنگلہ دیشی نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق یورپی یونین کی نئی ’’آرکٹک حکمت عملی‘‘ کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ یورپی بلاک اہم خام معدنیات، برف توڑنے والے بحری جہازوں اور زیر سمندر کیبلز سمیت مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اس خطے میں اپنا کردار مضبوط …

برسلز۔20اکتوبر (اے پی پی):یورپی یونین آج (منگل کو) آرکٹک خطے میں اپنی موجودگی مستحکم بنانے کے منصوبوں کا اعلان کرے گی۔بنگلہ دیشی نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق یورپی یونین کی نئی ’’آرکٹک حکمت عملی‘‘ کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ یورپی بلاک اہم خام معدنیات، برف توڑنے والے بحری جہازوں اور زیر سمندر کیبلز سمیت مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اس خطے میں اپنا کردار مضبوط کر سکے، جو جغرافیائی و سیاسی مسابقت کا مرکز بن چکا ہے۔

یورپی یونین کے بین الاقوامی شراکت داری کے سربراہ جوزف سکیلا نے کہا کہ آرکٹک کی نئی صورتحال یورپ سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک مضبوط اور قابل اعتماد شراکت دار بنے۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کا مقصد یہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی میں خطے کے اہم مسائل، بشمول موسمیاتی تبدیلی کی تیز رفتار شدت اور سلامتی و جغرافیائی سیاست سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کا احاطہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یورپ کو ان چیلنجز سے کیسے نمٹنا چاہیے۔عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندری برف پگھلنے سے آرکٹک میں مسابقت بڑھ رہی ہے۔ روس، چین اور امریکا سمیت مختلف ممالک قدرتی وسائل اور نئے بحری راستوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں سے تین، ڈنمارک، فن لینڈ اور سویڈن، آرکٹک خطے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے یورپی بلاک کے لیے بھی اس خطے میں ہونے والی پیش رفت اہمیت رکھتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسیع اور خودمختار ڈینش علاقے گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی بار بار دھمکیوں نے بھی یورپ میں تشویش پیدا کی ہے۔

چونکہ شمالی خطے میں ہونے والی پیش رفت کے اثرات مزید جنوب تک بھی پہنچتے ہیں، اس لیے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کی جانب سے پیش کی جانے والی اس حکمت عملی کا مقصد آرکٹک کے حوالے سے یورپی یونین کا مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنا ہے۔اے ایف پی کے حاصل کردہ مسودے میں کینیڈا، برطانیہ اور ناروے جیسے یورپی یونین سے باہر کے ہم خیال ممالک کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں ’’شمالی ہمسایہ ممالک‘‘ کے شراکت داروں کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔