یورپ تک پھولوں کی ترسیل سے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے، ملک محسن عباس

پاکستان میں سازگار موسمیاتی ماحول کے باعث پھولوں کی بھر پور پیداوارحاصل کرکے ایکسپورٹ سے شاندار منافع حاصل کیا جا سکتا ہے

فیصل آباد۔ 29 ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں سازگار موسمیاتی ماحول کے باعث پھولوں کی بھر پور پیداوار حاصل کرکے ایکسپورٹ سے شاندار منافع حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ ہالینڈ سمیت بعض دیگر ممالک پھولوں کی شاندار پیداوار کے ذریعے ان کی برآمدات کا بڑا حجم حاصل کرتے ہوئے اپنی معیشت کو مضبوط ترین بنانے کیلئے کوشاں ہیں اسلئے اگر پاکستان میں وافر مقدار میں دستیاب زمین پر سازگار موسمیاتی ماحول سے استفادہ کرتے ہوئے سستی لیبر کو بروئے کار لایا جائے تو سمندر کے ذریعے مڈل ایسٹ، فار ایسٹ، یورپ تک پھولوں کی ترسیل کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتاہے اور فلاور انڈسٹری میں موجود منافع کی بھر پور گنجائش سے بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتاہے۔چیف سائنٹسٹ شعبہ ہارٹیکلچرملک محسن عباس نے اے پی پی کو بتایاکہ اگر باغبان اور کاشتکار ماہرین زراعت اور زرعی سائنسدانوں و ماہرین ہارٹیکلچر کی مشاورت سے استفادہ کریں تو ملک کی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستانی کاشتکاروں کیلئے بے شمار برآمداتی امکانات موجود ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف نچلی سطح پر غربت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتاہے بلکہ اس سے دیہی ترقی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھول اگانے اور انہیں ٹھنڈے ماحول میں منتقل کرنے کیلئے کول چین سسٹم متعارف کروا کر پھولوں کی 40 سے 50 فیصد تک پیداوار کو ضائع ہونے بچا کر اسے برآمد کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ کاشتکار اس ضمن میں مشاورت، رہنمائی یا معلومات کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں