فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونان میں بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا ہے۔العربیہ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ 10 ہزار سے زیادہ طلبہ، سکول کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت ایتھنز اور دیگر یونانی شہروں کی سڑکوں پر مارچ کیا۔پولیس کے ایک ترجمان نےبتایا کہ دوپہر کے وقت دارالحکومت ایتھنز میں تقریباً 5 ہزار افراد جمع ہوئے، ملک …
یونان کے دیگر شہروں میں مہنگائی کے خلاف احتجاج

مزید خبریں
ایتھنز ۔22اکتوبر (اے پی پی):فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونان میں بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا ہے۔العربیہ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ 10 ہزار سے زیادہ طلبہ، سکول کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت ایتھنز اور دیگر یونانی شہروں کی سڑکوں پر مارچ کیا۔پولیس کے ایک ترجمان نےبتایا کہ دوپہر کے وقت دارالحکومت ایتھنز میں تقریباً 5 ہزار افراد جمع ہوئے، ملک کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی میں مزید 3 ہزار افراد اکٹھے ہوئے۔
اسیش طرح سرکاری ٹیلی ویژن "ای آر ٹی” نے ملک کے مغرب میں واقع شہر پاتراس میں بھی ایک مارچ میں 3 ہزار سے زیادہ افراد کی شرکت کی خبر دی ہے۔ایتھنز کے قریب ایک بلدیہ میں کام کرنے والی پچاس سالہ ملازمہ ماریا نے پارلیمنٹ کے سامنے واقع سنتاگما سکوائر کی طرف جانے والے ایک مارچ میں شرکت کے دوران ’’ فرانس پریس‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے، سکولوں میں عملے کی کمی ہے اور سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔سیکنڈری لیول کے طلبہ اور اساتذہ بنیادی ڈھانچے اور عملے کی کمی پر احتجاج کر رہے ہیں۔
یہ مظاہرین تعلیم کے شعبے پر عوامی اخراجات میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سیکنڈری سکول ٹیچرز یونین کے مطابق سکولوں میں 15 ہزار اساتذہ کی کمی ہے۔تھیسالونیکی کی ارسطو یونیورسٹی میں فلسفہ اور پیڈاگوجی کے طلبہ کی نمائندہ کاتیا کوبوسیدو نے "فرانس پریس” کو بتایا کہ خواہ یونان ہو یا فرانس، ہم مفت اور سرکاری تعلیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جہاں تک ایتھنز کا تعلق ہے طالب علم یانس پاپانیکولاؤ نے فرانس میں مظاہروں پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا فرانس میں مظاہرے یہاں تبدیلی کے لیے کام کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میرے سکول کی کچھ کلاسوں کے اندر کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور ہیٹنگ کے وسائل کام نہیں کر رہے۔








