متحدہ عرب امارات (یو اے ای)آئندہ پانچ سے آٹھ سال کے دوران یونان میں مزید 15 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، اس میں توانائی، مہمان نوازی، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان ابوظہبی کے ولی …
یو اے ای کا یونان میں 15 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ، توانائی سمیت مختلف شعبوں کو ہدف بنایا جائے گا

مزید خبریں
ابوظہبی۔23اکتوبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات (یو اے ای)آئندہ پانچ سے آٹھ سال کے دوران یونان میں مزید 15 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، اس میں توانائی، مہمان نوازی، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے دورہ یونان اور یونانی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کیا گیا۔
انہوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اس دورے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے چار سال قبل یونان میں تقریباً 4بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی جس سے قابل تجدید توانائی، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں منصوبوں کو مدد ملی۔یہ دورہ انویسٹوپیا میڈیٹیرینین اور متحدہ عرب امارات۔یونان سٹریٹجک فورم کے موقع پر ہوا جس میں دونوں ممالک کے حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔الزیودی نے بتایا کہ مجموعی طور پر 12.7 بلین یورو مالیت کی 18 مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان کیا گیا جن میں حکومتی، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں سے متعلق معاہدے شامل ہیں، ان کے تحت یونان میں جائیداد، صحت، خوراک، قابل تجدید توانائی اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں براہ راست اماراتی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
انہوں نے یونان کو اہم لاجسٹکس مرکز اور مشرقی یورپ کا تاریخی دروازہ قرار دیا جہاں سمندری نقل و حمل کی صلاحیتیں اسے خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے الزیودی نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور تقریباً دو ہفتے قبل ہونے والا تازہ ترین دور گزشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہا۔ انہوں نے اس سلسلے میں یونان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت تقریباً 30 کروڑ ڈالر رہی جو علاقائی جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے باوجود 13 فیصد زیادہ ہے، یہ اضافہ سٹریٹجک تعلقات کی مضبوطی اور تعاون کو وسعت دینے کے حوالے سے دونوں ملکوں کی قیادت کے مشترکہ وژن کی عکاسی ہے۔
الزیودی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی بیرون ملک سرمایہ کاری کا مقصد معیشت میں تنوع پیدا کرنا، کامیاب ملکی منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینا اور بالخصوص ٹیکنالوجی کے شعبے میں مہارت کا تبادلہ کرنا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سرمایہ کار کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات کی ساکھ طویل المدتی شراکت داریوں کے قیام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مہمان نوازی، لاجسٹکس، سمندری نقل و حمل، ماہی گیری، زراعت اور توانائی کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں یونان کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے مواقع کو بھی اجاگر کیا، ان میں یہ تعاون بھی شامل ہے کہ یونانی مہارت کو بحیرہ روم کے خطے کی منڈیوں تک منتقل کیا جائے۔الزیودی نے بتایا کہ یونان میں متحدہ عرب امارات کی معاونت سے جاری کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں خصوصاً توانائی اور سرحد پار رابطوں کے شعبوں میں۔ انہوں نے یونانی معیشت کی جانب سے قرضوں سے متعلق چیلنجز سے نکل کر اقتصادی ترقی کی طرف پیش رفت کے تناظر میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع پر امید کا اظہار کیا۔








