1971کی پاک بھارت جنگ میں بہاریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان تاریخ کا سیاہ باب

اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے اپنی روایتی چالبازی اور گھناؤنی سازشوں کی انتہا کر دی۔خطہ میں دہشتگردی پھیلانے اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی میں بھارت کا مکروہ کردار دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں۔تفصیلات کے مطابق1971میں بھارت نے مکتی باہنی جیسے خونخوار دہشتگرد گروہ کو محب وطن پاکستانیوں پر حملوں کیلئے آلۂ کار بنایا۔دہشتگرد مکتی باہنی نے نہتے، بے گناہ اور محبِ وطن …

اسلام آباد۔21نومبر (اے پی پی):1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے اپنی روایتی چالبازی اور گھناؤنی سازشوں کی انتہا کر دی۔خطہ میں دہشتگردی پھیلانے اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی میں بھارت کا مکروہ کردار دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں۔تفصیلات کے مطابق1971میں بھارت نے مکتی باہنی جیسے خونخوار دہشتگرد گروہ کو محب وطن پاکستانیوں پر حملوں کیلئے آلۂ کار بنایا۔دہشتگرد مکتی باہنی نے نہتے، بے گناہ اور محبِ وطن پاکستانیوں خصوصاً بہاری کمیونٹی پر مظالم ڈھا کردرندگی کی نئی مثال قائم کی۔

بہاری کمیونٹی کے محمد علاؤالدین بھی اُن بہادر پاکستانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی محبت میں اپنا سب کچھ لٹا دیا۔بھارتی سرپرستی میں مکتی باہنی کی درندگی سے متاثرہ علاؤ الدین نے اپنی آب بیتی سناتے ہوئے کہا کہ مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے پورے ملک میں آگ و خون کا دریا بہایا، ہم نے بہت مشکل سے اپنے لوگوں کی حفاظت کی۔چٹاگانگ میں ظلم کی ایسی ہولناک کیفیت تھی کہ ہم نے خود 45 ڈرمز میں سربریدہ لاشیں اکٹھی کیں

،بے شمار لاشیں سڑکوں پر موجود تھیں، جنہیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔محمد علاؤ الدین نے کہا کہ جب پاکستانی فوج ہماری مدد کیلئے پہنچی تو مکتی باہنی کے غنڈوں نے ہمیں روک لیا، پھر 1971 میں جنرل ٹِکا خان آئے ، انہوں نے کہا کہ آپ سب نے ہمارا بہت ساتھ دیا،جنرل ٹِکاخان نے ہمیں فوج میں بھرتی کرلیا اور ہمیں 3 ماہ کی مختصر ٹریننگ دی۔اںہوں نے کہا کہ اندرونی صورتحال تباہ کن تھی، مکتی باہنی

، شانتی باہنی اور لال باہنی کی فوج نے دہشت کا پورا جال بچھا رکھا تھا، اور دوسری طرف بھارت مسلسل حملہ آور تھالیکن ہم نے ہار نہیں مانی اور سوچا کہ اگر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اپنے ملک کے لیے جان دیں،یہ ہندوستانی لوگ جو پروپیگنڈا کرتے ہیں وہ سب جھوٹ ہے،

حقیقت سے انکا کوئی تعلق نہیں۔محمد علاؤ الدین نے کہا کہ آج بھی ہمارے 6 سے7 لاکھ افراد وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور آج بھی وہ پاکستان کا جھنڈا لگائے بیٹھے ہیں۔بھارت اور مکتی باہنی کے خونریز جرائم کو بے نقاب کرتی ہوئیں 1971 کے ظلم و بربریت کی داستانیں آج بھی زندہ ہیں۔

مزید خبریں