واشنگٹن۔ 24 ستمبر (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مذاکرات واحد راستہ ہے، نئی حکومت وہی کام کرے گی جو پاکستان کے بہترین مفاد میں ہوگا، پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتاہے اورمثبت سوچ رکھتاہے لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی جارحیت سے نمٹنے …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں صحافیوں کو بریفنگ

مزید خبریں
واشنگٹن۔ 24 ستمبر (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مذاکرات واحد راستہ ہے، نئی حکومت وہی کام کرے گی جو پاکستان کے بہترین مفاد میں ہوگا، پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتاہے اورمثبت سوچ رکھتاہے لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، افغانستان میں طویل اوردیرپاسیاسی حل اورامن واستحکام کیلئے ایک جامع طرزعمل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے اس بات کا اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل کیا ہے جہاں وہ 29 ستمبر کو خطاب کریں گے، توقع ہے کہ وہ اپنے خطاب میں خطے میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے اصولی موقف، افغانستان میں امن اور کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کو اجاگر کریں گے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں صحافیوں کو بریفننگ دیتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت میں تعلقات میں سردمہری کے خاتمہ، بھارت سے تعلقات اور جنگ سے متاثرہ افغانستان میں امن عمل کیلئے کی جانے والی کوششوںکے حوالے سے گفتگو کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیوسے 2 اکتوبر کو ملاقات کریں گے، اس ملاقات کی دعوت امریکی سیکرٹری خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دی تھی۔امریکااورپاکستان کے درمیان تعلقات میں حالیہ تناﺅ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات حالیہ دنوں میں ”فریکچرڈ“ ہوئے تھے تاہم پاکستان نے امریکا سے تعامل کوآگے بڑھانے کا ارادہ ظاہرکیا اورمشترکہ نکات پر تعلقات کو آگے بڑھانے پر اپنی توجہ مرکوزکرلی، پاکستان امریکاکے ساتھ باہمی مفاد واحترام پرمبنی بنیاد پرتعلقات کی خواہش رکھتا ہے۔








