اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت 29 ہزار ارب روپے کے قرضوں کا ٹائم بم ہمارے لئے چھوڑ کر گئی تھی، ہمارے سسٹم میں 19سے ساڑھے 19ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی ترسیل کی صلاحیت ہی نہیں، سابق حکومت نے جتنے بھی پاور پلانٹس لگائے وہاں ٹرانسمیشن لائینیں ہی نہیں تھیں، گردشی قرضے 1200 ارب روپے تک پہنچ …
وزیر توانائی عمر ایوب کی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت 29 ہزار ارب روپے کے قرضوں کا ٹائم بم ہمارے لئے چھوڑ کر گئی تھی، ہمارے سسٹم میں 19سے ساڑھے 19ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی ترسیل کی صلاحیت ہی نہیں، سابق حکومت نے جتنے بھی پاور پلانٹس لگائے وہاں ٹرانسمیشن لائینیں ہی نہیں تھیں، گردشی قرضے 1200 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، بجلی چوری کی روک تھام کے لئے اے بی سی کیبل کے استعمال ،ٹرانسمیشن لائین کی اپ گریڈیشن ،واپڈا ملازمین سے مفت بجلی کی فراہمی کی سہولت واپس لینے سمیت دیگر امور پر غور جاری ہے۔ وہ جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کے ہمراہ پی آئی ڈی میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ 2013میں پاکستان کے مجموعی قرضے 15ہزار ارب روپے تھے ، 2018تک قرضوں کا مجموعی حجم 29ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے ، قرضوں میں اہم جزو گردشی قرضے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیدوار جتنی بڑھ جائے اگر وہ سسٹم میں شامل نہیں ہوسکتی تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے، پچھلی حکومت نے بجلی کے پلانٹس ان جگہوں پر لگائے جہاں پر ٹرانسمیشن لائنیں نہیں تھیں اور اگر کہیں تھیں بھی تو وہ بہت دور تھیں لیکن ٹرانسمیشن لائن پر ایک پیسے کی انویسمنٹ نہیں کی گئی اس لئے آج کیپسٹی چارجزکا بوجھ عوام برداشت کر رہی ہے۔








