اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض کا ابھی کوئی ارادہ نہیں لیکن 10 اکتوبر تک فیصلہ کر لیں گے، موجودہ حالات میں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے فورا نہیں بتا سکتے، تیل کی قیمتیں بڑھنا پاکستان کے لیے اچھا نہیں، ملک میں انکم ٹیکس دینے والے 7 لاکھ لوگ ہیں، ایف بی آر …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرکی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”بریکنگ ویوز“ میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض کا ابھی کوئی ارادہ نہیں لیکن 10 اکتوبر تک فیصلہ کر لیں گے، موجودہ حالات میں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے فورا نہیں بتا سکتے، تیل کی قیمتیں بڑھنا پاکستان کے لیے اچھا نہیں، ملک میں انکم ٹیکس دینے والے 7 لاکھ لوگ ہیں، ایف بی آر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جو ٹیکس نہیں دے رہا ایف بی آر انہیں پکڑے گا، روپے کو ڈالر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”بریکنگ ویوز“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امیر طبقے کے استعمال کی چیزوں پر ٹیکس لگایا ہے جس سے 90 فیصد عام اور غریب لوگوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی گاڑیاں مزید مہنگی ہوں گی، پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کے اون اور سیفٹی پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاریں بنانے والی کمپنیوں کی پرائس کنٹرول، اون اور سیفٹی کو بھی آئندہ ای سی سی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی گاڑیوں کی خریدو فروخت کے حوالے سے بھی جلد ایکشن لیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے اور یہ بھی کبھی نہیں کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے بلکہ یہ کہا کہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ہم آئی ایم ایف سمیت تمام آپشنز پر غور کریں گے، آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں جانا اس بارے میں 10 اکتوبر تک فیصلہ کر لیں گے۔








