اقوام متحدہ کے امن برقرار رکھنے والے مشن کو مالی طور پر مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے، ملیحہ لودھی

اقوام متحدہ۔ 21 مئی (اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن برقرار رکھنے والے مشن کو مالی طور پر مضبوط رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ 31 رکنی بین الحکومتی ادارہ جنگ زدہ ممالک کی تعمیر نو کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اقوام متحدہ میں پا کستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے مشن کی سرگرمیوں کے جائزہ اجلاس کے دوران جنرل اسمبلی کو بتایا کہ …

اقوام متحدہ۔ 21 مئی (اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن برقرار رکھنے والے مشن کو مالی طور پر مضبوط رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ 31 رکنی بین الحکومتی ادارہ جنگ زدہ ممالک کی تعمیر نو کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اقوام متحدہ میں پا کستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے مشن کی سرگرمیوں کے جائزہ اجلاس کے دوران جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے امن برقرار رکھنے والے مشن نے سالہا سال سے امن کوششوں کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جاپان اور ناروے کے ہمراہ قیام امن فنڈ کے لئے موجودہ مالیاتی نظام میں اضافہ کے لئے جدت آمیز فنانسنگ کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشن برونڈی ، وسطی افریقن ریپبلک ، گنیا، گنی بساوء لائبیریا اور سیرا لون سمیت متعدد ممالک کی امن کوششوں میں تعاون کر رہا ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن برقرار رکھنے والے مشن کے بانی رکن اور یو این پیس کیپنگ میں سب سے زیادہ فوجی بھیجنے کی حیثیت سے پاکستان امن مشنز کے حاصل کردہ فوائد کو برقرار رکھنے کے سلسلہ میں امن کی اہمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن برقرار رکھنے کے لئے ممالک کی کوششوں میں نیشنل اونر شپ کے اصول کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے۔کامیابی کے لئے ممالک کی قومی ترجیحات میں لچک اور مطابقت پذیری ضروری عنصر ہے اس کے ساتھ ہی موضوعاتی ایشوز پر توجہ بھی اہمیت رکھتی ہے اور خاص حالات میں ان کی مطابقت کے ساتھ کمیشن کے کام کی رہنمائی ہونی چاہیے۔ آخری بات جس کی ضروت ہے وہ حکومتوں پر شائستہ دبائو ہے جو پہلے ہی نازک حالات سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنظیموں کے ساتھ، خاص کر ان کے مقامی حالات کے علم کے پیش نظر، مسلسل اور ٹھوس رابطہ بھی ضروری ہے اور اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ جنگ سے متاثر ممالک کو مسلسل سرحدی چیلنجوں کا سا منا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اسی وقت برقرار رہتا ہے جب اس کی بنیادیں جامع ہوں، اس لئے قومی ملکیتی سیاسی عمل کی لازمی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی جانب سے امن استحکام اور امن برقرار رکھنے کی کوششوں کو مربوط بنانے کے لئے تعمیری رابطہ جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply