صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کا قابل تجدید توانائی سمٹ سے خطاب

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی کا استعمال ضروری ہے، 2025ء تک قابل تجدید توانائی سے ملک کی پچیس فیصد ضروریات پوری ہوسکیں گی، پن بجلی پر انحصار کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع کو بروئے کارلانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں قابل تجدید توانائی سمٹ …

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے قابل تجدید توانائی کا استعمال ضروری ہے، 2025ء تک قابل تجدید توانائی سے ملک کی پچیس فیصد ضروریات پوری ہوسکیں گی، پن بجلی پر انحصار کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع کو بروئے کارلانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں قابل تجدید توانائی سمٹ سے خطاب کرتے کہی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ڈیم پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کی ضروریات پوری کررہے ہیں تاہم ہمیں توانائی کے حصول کے متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2025 ء پر قابل تجدید توانائی کا حصہ 20 فیصد اور 2030ء تک 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ صدر مملکت نے کہاکہ قابل تجدید توانائی سستی توانائی کا ذریعہ ہے، ہمیں ملک میں شمسی توانائی پر توجہ دینی ہو گی اور سولر پینل درآمد کرنے کی بجائے خود بنانے چاہئیں۔ اس وقت پوری دنیا میں شمستی توانائی کی پیداواری لاگت میں کمی آرہی ہے ۔ شمسی توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جانا چاہیے۔