وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا نیویارک میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب

نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم پہلو رہا ہے۔ نیویارک میں جاری اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی …

نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم پہلو رہا ہے۔ نیویارک میں جاری اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم پہلو رہا ہے۔ پاکستان، خلیج تعاون کونسل میں شامل تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لئے پرعزم ہے۔ شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے مابین دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی ہم آہنگی ہے، ان تعلقات کو بروئے کار لا کر دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان فناشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے دیئے گئے اہداف کی تکمیل کے لیے سنجیدگی سے عمل پیرا ہے ، ایف اے ٹی ایف فورم پر پاکستان کی معاونت پر جی سی سی کے شکر گزار ہیں، توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ ماہ پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھی ہمیں جی سی سی کی جانب سے معاونت درکار ہوگی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ فری ٹریڈ معاہدے کے حوالے سے جی سی سی کے ساتھ دو ادوار کامیابی کے ساتھ مکمل ہوچکے ہیں، اس کا حتمی دور بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا، پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دے رہی ہے، جی سی سی سے متعلقہ ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے ان مواقعوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی ضرورت روز بروز بڑھ رہی ہے، خلیجی ممالک کیلئے ”قابل تجدید توانائی” کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے بہترین رقبہ، آبی وسائل اور موزوں آب و ہوا موجود ہے، جی سی سی کے ممالک پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کر کے بہترین معاشی فوائد حاصل کرسکتے ہیں، بہتر روزگار کے حصول کیلئے ہمارے لوگ ترجیحی بنیادوں پر خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، آج بھی پاکستان کا ہیومن ریسورس بڑی تعداد میں خلیجی ریاستوں میں موجود ہے اور وہاں کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ اسٹریٹیجک مذاکرات میں کئے گئے مشترکہ فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھر پور کوششیں جاری ہیں، ہماری خواہش ہے کہ سیکرٹری جنرل جی سی سی جلد پاکستان کا دورہ کریں تاکہ اس ضمن میں معاملات کو باہمی مشاورت سے مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیجی ممالک کی جانب سے ویزہ پر عائد پابندی میں نرمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے اور دو طرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔