وزیراعظم عمران خان کا امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ایم ایس این بی سی کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ماضی کے برعکس حقیقت اور اعتماد پر مبنی ہیں، اُس وقت دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اور شکوک و شبہات تھے۔ یہ بات انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ایم ایس این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ اِس وقت …

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ماضی کے برعکس حقیقت اور اعتماد پر مبنی ہیں، اُس وقت دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اور شکوک و شبہات تھے۔ یہ بات انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ایم ایس این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ اِس وقت امن کے شراکت دار ہیں اور اِسی بنیاد پر تعلقات ہونے بھی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ انہوں نے ایران کے لئے بھی اس طرح کی پالیسی کی بھی مخالفت کی جس کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہونے کی حیثیت سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں تبدیلی لا سکتا ہے جہاں 9 لاکھ بھارتی فوجیوں نے 80 لاکھ افراد کو محصور بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ذی شعور شخص ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور ایٹمی جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتا، دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان صورتحال فوجی کشیدگی کی جانب جانے سے پہلے اسے روکنا ضروری ہے، اس لئے ہم امریکی مداخلت چاہتے ہیں، میں امریکہ میں دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھانے کے لئے آیا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے جس میں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کے لئے 11 قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت دنیا بھارت کو ڈیڑھ ارب آبادی کی مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں یہ اقدام اٹھایا۔ عمران خان نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لئے کہا، پاکستان اس مسئلے کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، افغانستان اور ایران کے تنازعات کو حل کرنا دنیا کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنگ مخالف شخص ہونے کی حیثیت سے میں نے امریکہ کی قیادت میں جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کی جس میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سوویت جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان کو 40 لاکھ افغان مہاجرین کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا تھا، سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لئے تیار کئے گئے شدت پسند گروپوں نے ملک میں دہشت گرد حملے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد بھی پاکستان نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑنے کی یقین دہانی کے بعد امریکہ کا ساتھ دیا، امریکہ پاکستان سے مزید تعاون کا مطالبہ کر رہا تھا حالانکہ حقیقت میں نیٹو کے ڈیڑھ لاکھ فوجی بھی جنگ جیتنے میں ناکام رہے۔