وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیو یارک میں صحافیوں سے بات چیت

نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں تعاون کی تنظیم (سارک) کا آئندہ سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد ہو گا جبکہ سارک کے رکن تمام ممالک نے آئندہ اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس پاکستان میں بلانے پر متفقہ طور پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سارک ممالک کے …

نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں تعاون کی تنظیم (سارک) کا آئندہ سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد ہو گا جبکہ سارک کے رکن تمام ممالک نے آئندہ اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس پاکستان میں بلانے پر متفقہ طور پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سارک ممالک کے وزراءکی سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سارک کے آئندہ ہونے والے سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے جس کی تاریخ کا اعلان باہمی طور پر مشاورت سے طے کیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سارک کے رکن ممالک نے تجویز پیش کی تھی کہ اگر وہ خطہ کے سیاحتی، اقتصادی اور دیگر شعبوں سے حقیقی طور پر استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے تنازعات بارے تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں تو پھر سربراہی سطح کا اجلاس بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سوا تمام رکن ممالک نے اعلیٰ سطحی سربراہی آئندہ اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے پرا تفاق کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اب تنہائی کا شکار ہو گیا ہے اور اس اجلاس کی تجویز کی توثیق کے علاوہ بھارت کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آخری سارک سربراہی اجلاس اسلام آباد میں 2016ءمیں منعقد ہونا تھا جو کہ بھارت کے اعتراضات کی وجہ سے منعقد نہیں ہو سکا تھا تاہم اس مرتبہ اب بھارت اس ضمن میں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک ایسا فورم ہے جہاں پر علاقائی ممالک اپنے تنازعات پربات چیت کر سکتے اور انہیں حل کر سکتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وہ اجلاس میں جان بوجھ کر تاخیر سے آئے کیونکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجاً بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر سننا نہیں چاہتے تھے۔