نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب ممالک سے منی لانڈرنگ کرنے والوں کے ساتھ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں جیسا سلوک کیا جانا چاہئیے، دہشت گردی کی نسبت منی لانڈرنگ سے زیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کونسل کے زیر اہتمام ترقی کے لئے مالیات سے متعلق اعلیٰ سطح …
وزیراعظم عمران خان کا ترقی کے لئے مالیات سے متعلق اعلیٰ سطح کے مذاکرے سے خطاب

مزید خبریں
نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب ممالک سے منی لانڈرنگ کرنے والوں کے ساتھ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں جیسا سلوک کیا جانا چاہئیے، دہشت گردی کی نسبت منی لانڈرنگ سے زیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کونسل کے زیر اہتمام ترقی کے لئے مالیات سے متعلق اعلیٰ سطح کے مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے لوگ ہلاک ہوتے ہیں اور مغرب اس حوالے سے پریشان ہے، منی لانڈرنگ کے ساتھ بھی منشیات کی رقوم اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والوں جیسا سلوک کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے کہیں زیادہ لوگ متاثر ہوتے ہیں تاہم اس کے لئے امیر ممالک کے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی بہاﺅ سے امیر ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں تاہم اس سے غریب ممالک مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں، دنیا کو ان اثرات کا ادراک کرنا چاہیے، اس سے ترقی پذیر ممالک میں غربت، اموات اور تباہی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امیر ممالک میں سیاسی عزم ہو گا تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، امیر ممالک سے غریب ممالک کو جو امداد دی جاتی ہے وہ اس دولت کا انتہائی چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جو ان ممالک سے لوٹی گئی ہوتی ہے اور بلآخر یہ دولت آف شور اکاﺅنٹس میں منتقل ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس دور میں بھی ایسے لوگوں کیلئے محفوظ پناہ گاہیں کیوں ہیں، حتیٰ کہ امیر ممالک بھی ان کا تحفظ کر رہے ہیں، ہم ایسے لوگوں کا تحفظ کیوں کرتے ہیں جو ٹیکسوں سے بھاگتے ہیں، ہم اس حکمران ایلیٹ کلاس کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ پاکستان میں ماضی کی حکومتوں کی منی لانڈرنگ کی مثال پیش کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں بدعنوان قیادت تھی جس نے قیام پاکستان سے لے کر ان کی حکومت آنے تک کے قرضوں سے چار گنا زیادہ قرضہ لیا، بدعنوانی سے بنائی گئی زیادہ تر دولت محفوظ کر لی گئی اور جو رقم صحت، تعلیم اور غربت کے خاتمے کے لئے خرچ ہونا تھی اسے بیرون ممالک میں جائیدادیں خریدنے پر خرچ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ حکومت یہ دولت واپس لانے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے تاہم جب ان جائیدادوں کا مغربی ممالک میں سراغ ملا تو اس کی ملک واپسی کی راہ میں بڑی قانونی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امیر ممالک میں سیاسی عزم کی کمی کے باعث غریب ممالک کی لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی میں مشکلات پیش آتی ہیں حتیٰ کہ غریب ممالک کے پاس اس رقم کو واپس لینے کے لئے وکیل مقرر کرنے کے وسائل بھی نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی مجرم حکمران ایلیٹ کلاس کو دولت باہر لے جانے سے روکنا ہو گا۔








