نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ سیاسی مفادات کے لئے خطے کے عوام کے مفادات اور امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے ان کی شدید خواہش کو مزید قربان نہ کیا جائے، پاکستان اپنے منفرد، انتہائی خوبصورت اور پرکشش سیاحتی مقامات کو پوری دنیا کے سیاحوں کے لئے کھولنے کے لئے اقدامات کررہا ہے، سارک ممالک …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سارک وزارتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
نیویارک ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ سیاسی مفادات کے لئے خطے کے عوام کے مفادات اور امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے ان کی شدید خواہش کو مزید قربان نہ کیا جائے، پاکستان اپنے منفرد، انتہائی خوبصورت اور پرکشش سیاحتی مقامات کو پوری دنیا کے سیاحوں کے لئے کھولنے کے لئے اقدامات کررہا ہے، سارک ممالک کے ممبران کی اسلام آباد آمد کے منتظر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر سارک وزارتی کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سارک وزارتی کونسل کے چئیر پرسن اور نیپال کے وزیرخارجہ پرادیپ کمار گیاوالی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پر یہ غیر رسمی اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل سارک امجد حسین بی سیال جنہوںنے سارک کی چھتری تلے مختلف اقدامات پر پیش رفت سے متعلق تفصیلات پر روشنی ڈالی، کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سارک 1985 میں وجود میںآئی جس کے قیام کا مقصد خوشحال جنوبی ایشیاءاور علاقائی رابطوں کو بڑھانا تھا جس سے اس خطے کے عوام کی غربت ختم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ سارک بے پناہ صلاحیت رکھنے والی علاقائی تنظیم تھی اور ہے، سارک ممالک مل کر دو ارب افراد پر مشتمل مارکیٹ بن جاتے ہیں، ہم قیمتی، قدرتی اور افرادی وسائل سے مالا مال ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ان نعمتوں سے بھرپور انداز سے استفادہ نہیں کرسکے، جنوبی ایشیاءآج بھی دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں ترقی کے لحاظ سے سب سے پیچھے ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ محض افسوس کی بات نہیں بلکہ خطے اوراس میں بسنے والے عوام کے مستقبل کے لحاظ سے یہ امر ہمارے لئے باعث تشویش ہونا چاہئے، آج ہمیں جن چیلنجوں کاسامنا ہے ان کا تقاضا ہے کہ علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے کیونکہ درپیش مسائل کا تنہاءکسی ایک ملک کے لئے نمٹنا ممکن نہیں، اس تناظر میں وضاحت کے لئے ہمیںماحولیاتی تبدیلیوں سے لے کرخوراک اور پانی کی قلت تک کے مسائل کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے۔








