اسلام آباد ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ہر ٹی وی چینل مولانا فضل الرحمن کی پروقار شخصیت کو دکھا رہا ہے اس کے باوجود انہیں اعتراض ہے، مولانا صاحب بتائیں کہ وہ کون سا چہرہ دکھانا چاہ رہے ہیں، میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ زیرو کو ہیرو بنانے کی بجائے مقبوضہ کشمیر …
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ہر ٹی وی چینل مولانا فضل الرحمن کی پروقار شخصیت کو دکھا رہا ہے اس کے باوجود انہیں اعتراض ہے، مولانا صاحب بتائیں کہ وہ کون سا چہرہ دکھانا چاہ رہے ہیں، میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ زیرو کو ہیرو بنانے کی بجائے مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کو بطور ہیرو دکھائیں، لاٹھیاں اٹھانے، جتھے بنانے اور گارڈ آف آنر لینے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، اگر کوئی اور ایسا کرے گا تو پیمرا پر بھی نیشنل ایکشن پلان لاگو ہو جاتا ہے اس کے لئے بطور وزارت اطلاعات کی ہدایات ضروری نہیں، موجودہ حکومت سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کر رہی ہے، حکومت کی ترجیحات اور مقاصد عوام کو ریلیف دینا ہے، ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے عزم کو کسی ایک شخص کے تابع نہیں رکھ سکتے۔ جمعرات کو یہاں میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا حسین چہرہ اور پروقار شخصیت کو ہر ٹی وی چینل صبح سے شام تک دکھا رہا ہے اور وہ ہر ٹاک شو کی زینت بنے ہوئے ہیں، اس کے باوجود انہیں اعتراض ہے کہ انہیں دکھایا نہیں جا رہا، پتہ نہیں وہ کونسا انداز چاہتے ہیں، میڈیا تو ان کا دستیاب چہرہ دکھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ہماری حکومت نے نہیں بلکہ سابقہ حکومت نے بنایا ہے، نیشنل ایکشن پلان میں تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے ٹی او آر کو حتمی شکل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ایک واضح مثال تحریک لبیک کا دھرنا بھی ہے جب اشتعال اور نفرت انگیز مواد سامنے آیا تو پیمرا کو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ اس نے خود نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنا کردار ادا کیا








