پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے خطہ میں منصوبہ بندی اورترقی کے عمل میں ماحول دوست طریقوں کورائج کرنے کیلئے اپناکردارجاری رکھیں گے، عالمی بینک

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) عالمی بنک جنوبی ایشیاء کے خطہ میں منصوبہ بندی اورترقی کے عمل میں ماحول دوست طریقوں کورائج کرنے کیلئے اپناکردارجاری رکھے گا۔ یہ بات پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرالانگوپیچوموتو نے ٹویٹرپرجاری ایک پیغام میں کہی ہے، انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیاء کے خطہ میں پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال ایسے ممالک ہیں جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سب سے زیادہ …

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) عالمی بنک جنوبی ایشیاء کے خطہ میں منصوبہ بندی اورترقی کے عمل میں ماحول دوست طریقوں کورائج کرنے کیلئے اپناکردارجاری رکھے گا۔ یہ بات پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرالانگوپیچوموتو نے ٹویٹرپرجاری ایک پیغام میں کہی ہے، انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیاء کے خطہ میں پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال ایسے ممالک ہیں جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سب سے زیادہ ہے، عالمی بینک نے اس حوالہ سے کلائیمیٹ اڈاپٹیشن اینڈریزلئینس پراجیکٹ (کئیر) شروع کیاہے، اس پروگرام کے ذریعہ پالیسی سازوں کو موسم، پانی اورماحولیات بارے مستند معلومات اورڈیٹا کی فراہمی کوممکن بنایاجارہاہے تاکہ منصوبہ بندی اورترقی کے عمل میں ماحولیات ومعیشت دوست طریقوں کورائج کرنے بارے میں بہترفیصلہ سازی ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ سیلابوں،ساحلی سکڑاو،خشک سالی اورماحولیات سے جڑی دیگرآفات کی وجہ سے 1990 سے لیکر2019ء تک 1.7 ارب لوگ متاثرہوئے جبکہ اس سے 127 ارب ڈالرکانقصان ہوا۔انہوں نے کہاکہ کئیر پراجیکٹ ابتدائی طورپرپاکستان، بنگلہ دیش اورنیپال کیلئے شروع کیاگیا تاہم اب اس کے دائرہ کارمیں توسیع لائی جارہی ہے۔کئیر کے ذریعہ اختراعی طریقوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اس مقصد کیلئے برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ڈی ایف ڈی آئی 3.5 ملین کی گرانٹ فراہم کررہاہے جوعالمی بینک کی نگرانی میں خرچ ہوتے ہیں۔

مزید خبریں