اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی)ترجمان دفتر خارجہ نے پلوامہ حملے میں بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے شواہد دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پر پیگنڈا شروع کر دیا۔ کشمیر کا تنازعہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امان قائم نہیں ہو سکتا۔عالمی برادری کوکشمیریوں کیخلاف جرائم کیلئے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل …
بھارت نے پلوامہ حملے کے شواہد دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پر پیگنڈا شروع کر دیا، کشمیر کا تنازعہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امان قائم نہیں ہو سکتا، ترجمان وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ
اسلام آباد ۔ 27 اگست (اے پی پی)ترجمان دفتر خارجہ نے پلوامہ حملے میں بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے شواہد دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پر پیگنڈا شروع کر دیا۔ کشمیر کا تنازعہ حل کئے بغیر جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امان قائم نہیں ہو سکتا۔عالمی برادری کوکشمیریوں کیخلاف جرائم کیلئے بھارت کو ذمہ دار ٹھہرانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لانا چاہیئے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید چار بیگناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آذادی کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے سے ہی یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے۔ مسلہ کشمیر حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل یو این قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیلئے پر عزم ہے۔ترجمان نے کہا کہ آئی سی جے کے فیصلے میں واضح کیا گیاہے کہ بھارتی جاسوس یادیو کے سزا پر ریویو اور دوبارہ غور پاکستانی قوانین کے مطابق ہی ہو گا۔ ترجمان نے بھارت سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستانی عدالتوں کیساتھ تعاون کرے۔افغان امن عمل سے متعلق ترجمان نے کہا کہ افغان مفاہمتی عمل اب اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ہماری خواہش ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات جلد از جلد شروع ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں امن عمل پر یقین رکھتا ہے اور پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا۔بھارتی شہر جودھ پور میں پاکستانی ہندو خاندان کے نو افراد کی پر اسرار ہلاکت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں نئی دہلی سے قونصلر رسائی، پوسٹ مارٹم کے دوران مشن کے ڈاکٹر کی موجودگی اور تحقیقات سے متعلق تازہ ترین معلومات کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔









