اسلام آباد ۔ 13 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ میدان جنگ میں انتہا پسندی کی شکست کے بعد اب اس کی فکری شکست ضروری ہے جس کے لیے خصوصی اقدامات نا گزیر ہیں، اس سلسلہ میں ریاست کے مختلف ادارے ، سرکای ذمہ داران،ذرائع ابلاغ اور تعلیم کا شعبہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تعلیم کوفروغ دے کر دہشت گردی کے لیے …
صدر مملکت ممنون حسین کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سکیورٹی اور وار کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ میدان جنگ میں انتہا پسندی کی شکست کے بعد اب اس کی فکری شکست ضروری ہے جس کے لیے خصوصی اقدامات نا گزیر ہیں، اس سلسلہ میں ریاست کے مختلف ادارے ، سرکای ذمہ داران،ذرائع ابلاغ اور تعلیم کا شعبہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تعلیم کوفروغ دے کر دہشت گردی کے لیے مذہب کے استعمال کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔صدر مملکت نے یہ بات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میںجمعہ کو سکیورٹی اور وار کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر این ڈی یو کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے بھی خطاب کیا جبکہ قومی سلامی کو لا حق خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے اہم تجاویز پر مشتمل بریفنگ دی گئی۔ گریجویشن تقریب میں وفاقی برائے منصوبہ بندی احسن اقبال،سینیٹر مشاہد حسین سید ، اراکین پارلیمنٹ ، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹافک کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور اعلی سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے ایک ایسا نظام تعلیم مرتب کیا جائے جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا خاتمہ کرے اور معاشرے کی تہذیب و ترقی میں ٹھوس کردار ادا کرنے کے لیے نوجوانوں کی عصری علوم و فنون میں مہارت کا ذریعہ بنے تاکہ عوام کے معیار زندگی کو مزید بلند کیا جاسکے۔ اس سلسلہ میں ہماری دوسری اہم ترین ذمہ داری بے روزگاری کا خاتمہ ہے کیونکہ بے روزگاری ، مایوسی اور نفرتوں کا راستہ ہموار کرتی ہے۔








