اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):زرعی اعداد و شمار و ڈیجیٹلائزیشن سے علاقائی زرعی تجارت میں کافی وسعت ہے جس سے تحفظ خوراک کو یقینی بنانا ممکن ہے، علاقائی زرعی تجارت کے فروغ کےلئے چھوٹے کسانوں کی صلاحیت میں اضافہ اور وسائل میں فراوانی کو یقینی بنانا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ”علاقائی زرعی تجارت میں تحفظ خوراک کی وسعت “ کے موضوع پر رپورٹ کے اجراءکے موقع پر …
ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام ”علاقائی زرعی تجارت میں تحفظ خوراک کی وسعت “ کے موضوع پر رپورٹ کا اجراء

مزید خبریں
اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):زرعی اعداد و شمار و ڈیجیٹلائزیشن سے علاقائی زرعی تجارت میں کافی وسعت ہے جس سے تحفظ خوراک کو یقینی بنانا ممکن ہے، علاقائی زرعی تجارت کے فروغ کےلئے چھوٹے کسانوں کی صلاحیت میں اضافہ اور وسائل میں فراوانی کو یقینی بنانا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ”علاقائی زرعی تجارت میں تحفظ خوراک کی وسعت “ کے موضوع پر رپورٹ کے اجراءکے موقع پر کیا جس کا اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے کینیڈا فنڈ پروگرام برائے لوکل انیشیٹوز (سی ایف ایل آئی) کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے نائب سر براہ ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ موسمیاتی تغیرات کے باعث پاکستان میں وبائی امراض میں اضافہ، سپلائی چین متاثر ہوئی ہیں اور خطہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوا، ان مشکلات کے پیش نظر علاقائی زرعی تجارت کو جدید اسلوب اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ڈی جی ہدف نمبر 2 پر ہونے والی پیش رفت کافی متاثر ہوئی ہے، اس کے منفی اثرات افغانستان پر بھی آئے کہ وہاں کی 95 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہوئی ہے، انہی مشکلات کے پیش نظر پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی نے نجی و سرکاری شعبہ کے ذریعے مباحثہ کا اہتمام بھی کیا جس میں رابطہ کاری کے ذریعے ان معاملات کے پائیدار حل کا مربوط پلیٹ فارم بھی تشکیل پایا جس سے تحفظ خوراک و علاقائی زرعی تجارت کا فروغ ممکن ہو سکے گا۔
اس موقع پر وزارت تحفظ خوراک حکومت پاکستان کے مشیر برائے اقتصادی امور ڈاکٹر ہارون سرور نے کہا کہ علاقائی زرعی تجارت کے فروغ کےلئے چھوٹے کسانوں کی صلاحیت میں اضافہ اور وسائل میں فراوانی کو یقینی بنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور وزارت تحفظ خوراک کو مشترکہ تحقیقی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
بحریہ یونیورسٹی کی ڈاکٹر ثمرین بابر نے کہا کہ زرعی تجارت کو جدید اسلوب پر لے جانے والے تحقیقی عمل میں طلبہ کو شامل کر کے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں، اس سے غذائی تحفظ اور زرعی ترقی کو یقینی بناناممکن ہے۔
نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والی ریجا طیب نے کہا کہ موسمیاتی آفات سے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، اس لئے یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر کے تیار کیا جائے تا کہ وہ تمام تر حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں اور علاقائی زرعی تجارت میں مقامی کسانوں کی رہنمائی کے لئے اعداد و شمار اور جدید مشاورت فراہم کر سکیں۔








