محکمہ زراعت پنجاب کی کاشتکاروں کو بہاریہ کماد کی کاشت 15مارچ تک مکمل کر نے کی ہدایت

لاہور۔12فروری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو بہاریہ کماد کی فصل کی بہتر پیداوار کیلئے کاشت 15مارچ تک مکمل کر نے کی ہدایت کر دی۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے سوموار کو جاری بیان میں کہا کہ دیر سے کی گئی کاشت اورغیرمنظور شدہ اقسام کی کاشت سے نہ صرف کماد کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ گنے میں چینی کی مقدار بھی کم ہو جاتی …

لاہور۔12فروری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو بہاریہ کماد کی فصل کی بہتر پیداوار کیلئے کاشت 15مارچ تک مکمل کر نے کی ہدایت کر دی۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے سوموار کو جاری بیان میں کہا کہ دیر سے کی گئی کاشت اورغیرمنظور شدہ اقسام کی کاشت سے نہ صرف کماد کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ گنے میں چینی کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے

اس لئے کاشتکار بہاریہ کماد کی بہتر پیداوار کے لئے محکمہ زراعت کی منظورشدہ اقسام علاقائی تقسیم کے لحاظ سے کاشت کریں۔انہوں نے کہا کہ کماد پاکستان کی اہم نقد آور فصل ہے جو کہ ملکی زرعی معیشت اور چینی کی صنعت میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کا شمارکماد کے رقبہ،پیداواراور چینی کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہوتا ہے۔ پنجاب میں گنے کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریبا744 من فی ایکڑ ہے۔کماد کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے ایسی میرا اور بھاری میرا زمین موزوں ہے جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اور نامیاتی مادہ بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہو البتہ کماد کو ہلکی اور کمزور زمین میں مناسب دیکھ بھال سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیم اور تھور والی زمین گنے کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ گنے کی جڑیں زمین کے اندر کافی گہرائی تک جاتی ہیں اس لیے کم از کم ایک فٹ گہرائی تک زمین کا تیار ہونا ضروری ہے۔ کماد کی جڑوں کے مناسب پھیلا ئواور خوراک کے آسان حصول کے لیے زمین نرم،بھربھری اوراچھی طرح ہموار ہونی چاہے ۔اس لیے زمین کی تیاری گہرا ہل چلا کر کریں اور زمین کی تیاری سے پہلے اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد ڈالیں اور روٹاویٹر چزل ہل دو دفعہ ایک دوسرے کے مخالف رخ اور عام ہل 3سے4 دفعہ چلا کر سہاگہ سے زمین تیار کریں۔ترجمان نے بتایا کہ چزل ہل چلانے سے پانی کا نکاس بہتر ہو جاتا ہے اور زمین کے آپس میں پیوست ذرات کھل جاتے ہیں جو کہ کماد کے پودوں کی جڑوں کو گہرائی میں لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ کماد کی منظور شدہ اقسام کی بروقت کاشت سے گنے میں شوگر کی مقدار10 تا15فیصد تک برقرار رہتی ہے ۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کماد کی اگیتی پکنے والی اقسام میں سی پی400 77 ،سی پی ایف237،سی پی ایف250 اورسی پی ایف251 اور وائی ٹی ایف جی236درمیانی پکنے والی اقسام میں ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف242،ایس پی ایف234، ایس پی ایف 213،سی پی ایف 246،سی پی ایف247،سی پی ایف248،سی پی ایف249،سی پی ایف253، سی پی ایس جی 2525- اورایس ایل ایس جی 1283-پچھیتی پکنے والی اقسام میں سی پی ایف252۔گنے کی زیادہ اور بھرپور پیداوار کے حصول کے لیے شرح بیج کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ گنے کے بیج کا اگا دیگر فصلات کی نسبت بہت کم ہے اگربیج ضرورت سے کم استعمال ہوتو فی ایکڑ پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے بیج سفارش کردہ مقدار میں ڈلیں۔کاشتکاربروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں دو آنکھوں والے 30 ہزار سمے یا تین آنکھوں والے 20 ہزار سمے فی ایکڑ ڈالیں۔ یہ تعداد موٹی اقسام میں تقریبا 100 سے 120 من اور باریک اقسام میں 80 سے 100 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کاشت میں تاخیر ہونے کی صورت میں بیج کی مقدار میں 20 سے 25 فیصد تک اضافہ کر لیں۔ کمادکے اگائو کے لئے مناسب درجہ حرارت 20سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ کھیلیوں میں پہلے فاسفورس اور پوٹاش کی کھاد ڈالیں اور پھر بیج ڈال کر مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں۔

زمین کی پیداواری صلاحیت اورزمین کی زرخیزی کو بحال رکھنے کے لیے اس میں گوبر کی گلی سڑی کھاد بحساب 3 سے4 ٹرالیاں فی ایکڑ ضرور ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگائو مکمل ہونے پر گوڈی والے ہل سے ایک دفعہ وتر اور پھر خشک حالت میں گوڈی کریں یہی عمل20دن بعد دوہرائیں۔آخری گوڈی کے بعد ز مین بھربھر ی ہو جا تی ہے اور فصل کو مٹی چڑھانے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔بجا ئی کے فورا بعدپہلے پانی پر ایس میٹولاکلو ر بحساب ایک لٹر فی ایکڑ فلڈکریں۔ اس سے جڑی بوٹیوں کا اگائو نہیں ہوتا۔ کماد کی بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لیے 64 سے80 انچ پانی درکار ہوتا ہے جو کہ تقریبا 16سے 20 دفعہ آبپاشی کر کے پورا کیا جا سکتا ہے۔